ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں, درجنوں دیہات زیرِ آب ,لاکھوں شہری متاثر، متعدد لاپتہ

پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں, درجنوں دیہات زیرِ آب ,لاکھوں شہری متاثر، متعدد لاپتہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: دریائے چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے لگی ہے، جلالپور پیروالا میں حفاظتی سپر ڈائک ٹوٹ گیا جس کے بعد سیلابی ریلہ قریبی آبادیوں کی طرف بڑھنے لگا۔ پولیس نے شہر بھر میں انخلاء کے اعلانات شروع کر دیے ہیں۔  

ملتان میں دریائے چناب نازک حد سے تجاوز کر گیا:

 ملتان میں چناب ندی کی سطح 394.50 فٹ کی خطرناک حد کو عبور کر چکی ہے جس کے باعث مختلف علاقوں میں نظام زندگی درہم برہم اور سینکڑوں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔اگرچہ شیر شاہ روڈ اور ہیڈ محمد والا روڈ ہلکی گاڑیوں کے لیے کھلے ہیں لیکن بھاری ٹریفک کو وہاڑی اور خانیوال کے ذریعے موٹر وے کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ سیلابی پانی بستی گگران کچور، مرزا پور اور حسن کچور میں داخل ہو چکا ہے، جس سے روزمرہ زندگی درہم برہم ہو گئی ہے۔

بھوانہ میں درجنوں دیہات تباہ، قبرستان بھی متاثر:

بھوانہ میں سیلابی ریلے نے درجنوں دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ سیکڑوں مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔ موزہ سلیمان، رحمان کالونی اور شیرآباد کے قبرستان بھی متاثر ہوئے ہیں، جن میں ایک قبرستان کی حفاظتی دیوار مکمل طور پر گر چکی ہے۔

احمدپور سیال کا گاؤں غازی آباد پانی میں محصور:

احمدپور سیال میں غازی آباد کا گاؤں سیلابی پانی سے مکمل طور پر گھِر چکا ہے۔ قصبے سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور پانی کی سطح 8 سے 9 فٹ تک بلند ہو گئی ہے جس سے گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

اوچ شریف میں درجنوں دیہات کے لوگ پھنس گئے:

اوچ شریف کے علاقوں موزہ چک کہل اور موزہ گمانی میں درجنوں دیہات سیلابی پانی میں گھر چکے ہیں۔ مقامی افراد انتظامیہ سے فوری ریسکیو آپریشن کی اپیل کر رہے ہیں۔

قبولہ شریف میں ستلج کی تباہی جاری:

قبولہ شریف میں دریائے ستلج کی سیلابی لہر نے کئی دیہات کو ڈبو دیا ہے۔ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور پوری کی پوری بستیاں زیر آب آ چکی ہیں۔

عارفوالا میں پانی سے جلدی بیماریاں پھیلنے لگیں:

عارفوالا میں ستلج کے سیلاب سے زمینیں، مکانات اور فصلیں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ گندے اور ٹھہرے پانی کی وجہ سے مقامی لوگ پانی سے پھیلنے والی جلدی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

لودن میں 200 مکانات بہہ گئے:

لودن کے علاقے چھاجو ڈے میں 200 سے زائد مکانات سیلابی ریلے کی نذر ہو چکے ہیں۔ کپاس، گنا، چاول، مکئی، تل اور چارہ سمیت اہم فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جس سے مقامی زراعت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

گڈو بیراج کی صورتحال خطرناک:

دریائے سندھ کے گڈو بیراج پر پانی کی سطح پانچ لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکی ہے، اور مسلسل چوتھے دن درمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے۔ ماہرین نے آئندہ 24 گھنٹوں میں پانی کی سطح میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی ہے، جس سے ندی کنارے علاقوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ تیز بہاؤ کے باعث دریا کنارے زمین کا کٹاؤ بھی تیز ہو گیا ہے۔