بجلی صارفین کیلئے وزیراعظم کورونا ریلیف وبال جان بن گیا

بجلی صارفین کیلئے وزیراعظم کورونا ریلیف وبال جان بن گیا

(شاہد ندیم سپرا) کورونا وائرس کی وجہ سے بجلی کے صارفین کو ملنے والا ریلیف وبال جان بن گیا، لیسکو نے اقساط کی صورت میں بل جمع کروانے والے صارفین کو نادہندہ قرار دیکر کنکشن منقطع کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

وزیراعظم کی جانب سے لیسکو صارفین کیلئے کورونا ریلیف وبال جان بن گیا ہے، کمپنی نے تین ماہ تک اقساط کی صورت میں بقایا جات کو رواں ماہ کے بلوں میں شامل کر لیا ہے، بقایاجات شامل کر کے اقساط میں جمع کروانے والے صارفین کو نادہندہ قرار دیدیا گیا ہے، لیسکو نے نادہندہ قرار دینے پر ریکوری کیلئے کنکشن منقطع کرنا شروع کر دیئے.

واضح رہے کہ کورونا وائرس کے دوران وزیراعظم نے بجلی صارفین کو اقساط میں بلوں کی ادائیگی کا ریلیف دیا تھا ، بجلی کے صارفین کے بلوں پر اقساط کی صورت میں ریلیف دیا جا رہا تھا تاہم لیسکو نے وزیراعظم عمران خان کا کورونا ریلیف اچانک ختم کر دیا ہے، کمپنی نے ریکوری میں بہتری نہ آنے پر ریلیف کو ختم کر کے بقایاجات شامل کر دیئے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں روپے اضافی بلوں کی ادائیگی مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔

دوسری جانب لیسکو نے کینٹ ڈرین کی صفائی کیلئے چار روزہ شٹ ڈاؤن کی منظوری دے دی، لیسکو کے شیڈول کے مطابق 16،19،24،29 ستمبر کو شٹ ڈاؤن دیا جائے گا، لیسکو کی 132 کے وی گرڈ لائن پر چھ چھ گھنٹے شٹ ڈاؤن ملے گا ۔

علاوہ ازیں لیسکو کے 10 افسروں کو گریڈ 20 میں ترقی دینے کا فیصلہ کرلیا گیا، پیپکو نے سینئر سلیکشن بورڈ سے قبل افسروں سے نیب، ایف آئی اے اور محکمانہ انکوائری کی رپورٹ مانگ لی گئی۔ پیپکو نے افسران سے رواں سال ماہ جون تک اثاثہ جات کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ افسران کیخلاف ہونیوالی محکمانہ انکوائریوں اور ڈسپلنری ایکشن کا ریکارڈ بھی مانگا گیا ہے، ریکارڈ کی تکمیل پر سینئر سلیکشن بورڈ کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔