ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بنجامن نیتن یاہو سمیت 37 افراد کے خلاف ترکیہ نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا

 Gaza war, Genocide, War Crimes, Turkey, Israeli Prime Minister, Netanyahu, Israel Katz
کیپشن:  file photo اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو، وزیر دفاع اور کئی دوسری اہم شخصیات کے ترکییے میں وارنٹ گرفتاری نکلنے کے بعد اسرائیل کی جانب سے ترکییے کی عدلیہ کو کٹھ پتلی قرار دیا جا رہا ہے۔ ان وارنٹس  پر عملدرآمد کروانا تو ترکیئے کی حکومت کے لئے شاید ممکن نہیں ہو گا البتہ اس سے اسرائیل کے ساتھ ترکیئے کی کشیدگی میں مزید اضافہ ضرور ہو گیا ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سمیت 37 افراد کے خلاف ترکیہ نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا ہے۔ ان سب پر ، غزہ میں نسل کشی کا الزام ہے۔
مجموعی طور پر 37 مشتبہ افراد کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔ ان میں اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز، قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر اور آرمی کے سربراہ  لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نمایاں ہیں۔
 
اسرائیل اور حماس کے دوران طویل عرصہ سے جاری جنگ کے بعد حال ہی میں جنگ بندی ہوئی ہے۔ اب ترکیہ نے اسرائیل کے خلاف  نسل کشی کے الزامات میں کارروائی کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ ترکیہ نے جمعہ (7 نومبر) کو اعلان کیا کہ اس نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے سینئر افسران کے خلاف نسل کشی کے الزام میں گرفتاری وارنٹ جاری کر دیا ہے۔

استنبول پراسیکیوٹر آفس کے بیان کے مطابق مجموعی طور پر 37 مشتبہ افراد کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز، قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر اور آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر شامل ہیں، حالانکہ مکمل فہرست اب تک منظر عام پر نہیں آئی ہے۔

ترکیہ نے مذکورہ اسرائیلی رہنماؤں اور افسران کے خلاف غزہ میں منظم نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے ہیں۔ بیان میں ترکیہ-فلسطین فرینڈ شپ ہاسپٹل کا بھی تذکرہ ہے، جسے ترکیہ نے غزہ کی پٹی میں بنایا تھا اور اسرائیل نے اسے مارچ میں بمباری کر کے تقریباً تباہ کر دیا تھا۔ 

 ترکیہ نے گزشتہ سال جنوبی افریقہ کی اس مہم میں بھی حصہ لیا تھا، جس میں اسرائیل پر بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں نسل کشی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ بعد مین بین الاقوامی عدالت انصاف نے نیتن یاہو کو جنگی جرائم کا اور نسل کشی کا مجرم قرار دے دیا تھا اور ان کے انترنیشنل وارنٹ گرفتاری نکال دیئے تھے جن پر یورپ کے کئی ملکوں نے عمل درآمد کیا۔


ترکیہ کی جانب سے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کے بعد اب اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سار کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ اسرائیل ڈکٹیٹر (صدر رجب طیب اردوغان) کے اس نئے پبلسٹی سٹنٹ کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ گیدون سار کا کہنا ہے کہ ’’اردوغان کی ترکیہ میں عدلیہ اب ایک ایسا آلہ بن گئی ہے، جس کا استعمال سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے اور صحافیوں، ججوں اور میئرز کو حراست میں لینے کے لیے کیا جاتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے اس سال کی شروعات میں استنبول کے میئر اکریم اماموگلو کی گرفتاری کا حوالہ بھی دیا۔


 ترکیہ کی جانب سے اسرائیل کی گرفتاری کا وارنٹ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے، جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے علاقائی امن منصوبے کے تحت 10 اکتوبر سے فلسطینی علاقوں میں ایک نازک جنگ بندی نافذ ہے۔ دوسری جانب حماس نے ترکیہ کے اس قدم کو خوش آمدید کہاہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ گرفتاری وارنٹ ترکیہ کے عوام اور اس کی قیادت کے عظیم انسانی جذبے اور اعلیٰ اصولوں کی تصدیق کرتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ رواں ہفتہ کی شروعات میں کئی مسلم اکثریتی ممالک استنبول میں جمع ہوئے تھے، تاکہ غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) پر بات چیت کی جا سکے۔ ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ فورس رواں سال کی شروعات میں ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی 20 نکاتی غزہ امن منصوبے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ حالانہ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ غزہ میں کسی بھی غیر ملکی فوج کی تعیناتی کے لیے اسرائیل کی رضامندی ضروری ہوگی۔ اسرائیل پہلے ہی ترکییے کو غزہ میں کوئی کردار دینے کی مخالفت کر رہا ہے۔