ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہائیکورٹ کا عمر قید کے منشیات کے مجرمان کو سزاؤں میں بے تحاشا معافیاں دینے پر اظہار برہمی

ہائیکورٹ کا عمر قید کے منشیات کے مجرمان کو سزاؤں میں بے تحاشا معافیاں دینے پر اظہار برہمی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے منشیات کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے دو مجرمان کو سزا میں غیر معمولی معافیاں دینے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر اور کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ اعجاز اصغر کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس محمد طارق ندیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مجرمان محمد عمران اور جاوید اقبال کی اپیلوں پر سماعت کی۔ مجرمان کو انسدادِ منشیات عدالت نے 2023 میں 9، 9 کلو گرام ہیروئن برآمد ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔عدالت کے روبرو انکشاف کیا گیا کہ جیل حکام نے محض ڈھائی سال کے دوران ہی دونوں قیدیوں کی سزا میں گیارہ سال کی رعایت (معافی) دے دی، جس پر عدالت نے سخت حیرت کا اظہار کیا۔جسٹس محمد طارق ندیم نے ریمارکس دیے“یہ حیران کن بات ہے کہ منشیات کے مجرمان کو محض ڈھائی سال میں گیارہ سال کی رعایت دے دی گئی، جب کہ چھوٹے چھوٹے جرائم میں ملوث لوگ برسوں جیلوں میں پڑے رہتے ہیں۔” معمولی جرائم میں سزا پانے والوں کو تو کسی قسم کی معافی نہیں ملتی، مگر منشیات جیسے سنگین جرم میں سزا یافتہ افراد کو بڑی رعایتیں دی جا رہی ہیں، جو قانون کی روح کے منافی ہے۔جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2023 میں سنائی گئی عمر قید کی سزا کو صرف ڈھائی سال بعد گیارہ سال کی معافی دے کر 13 سال مکمل ظاہر کر دینا قانونی سوالات کو جنم دیتا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ یہ رعایتیں کس بنیاد پر دی گئیں؟ کس نے یہ فیصلے منظور کیے؟ اور کیا اس کی منظوری جیل قوانین کے تحت ممکن بھی تھی؟ وکیل اے این ایف  نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دونوں مجرمان سے نو، نو کلوگرام ہیروئن برآمد ہوئی تھی، اور ان کے خلاف مقدمہ اے این ایف لاہور نے درج کیا تھا۔اے این ایف کے وکیل نے مزید کہا  جیل افسران کو طلب کرکے وضاحت لی جانی چاہیے کہ اتنی بڑی معافیاں کن بنیادوں پر دی گئیں۔”عدالت نے دریافت کیا کہ دونوں مجرمان کس جیل میں قید ہیں؟
جس پر وکیل اے این ایف نے بتایا کہ وہ سینٹرل جیل کوٹ لکھپت میں سزا کاٹ رہے ہیں۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ جتنی زیادہ مقدار میں منشیات برآمد ہوئی، اسی رفتار سے ان کی سزا میں رعایت دے دی گئی، جو انصاف کے بنیادی اصولوں کے برعکس ہے۔وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں مجرمان جیل کی فیکٹریوں میں محنت مزدوری کر رہے ہیں، عدالت سے صرف سزاؤں میں کمی کی استدعا کی گئی ہے، بریت نہیں۔جس پر عدالت نے ریمارکس دیے “تمام سزا یافتہ قیدی جیلوں میں محنت کرتے ہیں، مگر سب کو اس طرح کی رعایتیں نہیں ملتیں۔”عدالت نے کیس کی مزید سماعت 24 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل اعجاز اصغر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر بتایا جائے کہ منشیات جیسے سنگین جرم میں ملوث قیدیوں کو سزاؤں میں غیر معمولی معافیاں دینے کی قانونی اور انتظامی وجوہات کیا ہیں۔

Ansa Awais

Content Writer