سکول خستہ حالی کا شکار، طلبا ٹینٹ لگاکر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

سکول خستہ حالی کا شکار، طلبا ٹینٹ لگاکر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

( جنید ریاض ) برطانوی امدادی ادارے کے تعاون سے کروڑں روپے کی لاگت سے صوبہ بھر کے سکولوں میں بنائے گئے 200 کمرے خستہ حالی کا شکار ، کمروں کی حالت خطرناک ہونے کے باعث طلبا  ٹینٹ لگا کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی امدادی ادارے کے تعاون سے کروڑوں روپے کی لاگت سے صوبہ بھر کے سکولوں میں بنائے گئے 200 کمرے خستہ حالی کا شکار ہوچکے ہیں۔ کمروں کی حالت خطرناک ہونے کے باعث طلبا ٹینٹ لگا کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ مذکورہ کمروں کی چھتیں زلزلہ پروف نہ ہونے کے باعث ان میں کلاسز لگانے سے روک دیا گیا۔

دس ماہ گزر جانے کے باوجود 166 سکولوں میں قائم کمروں کی مرمت کا کام شروع نہیں کیا جاسکا۔ محکمہ سکول ایجوکیشن نے کمروں کی مرمت میں تاخیر پر متعلقہ اتھارٹیز سے جواب طلب کرلیا ہے۔ ایجوکیشن اتھارٹیز کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں ہیں، جلد ہی کمروں کی تعمیر ومرمت کا کام شروع کردیا جائے گا۔

دوسری جانب صوبہ بھر میں پبلک سکول سپورٹ پروگرام میں داخل بچوں کی جعلی انرولمنٹ کا انکشاف ہوا ہے۔ لاہور میں بھی پبلک سکول سپورٹ پروگرام کے تحت ہزاروں بچوں کی جعلی انرولمنٹ کی گئی۔ جعلی انرولمنٹ کے نام پر حکومت سے کروڑوں روپے وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ 

 پنجاب ایجوکیشن انسٹیٹیوٹ مینجمنٹ اتھارٹی نے نوٹس لیتے ہوئے پبلک سکول سپورٹ پروگرام میں داخل بچوں کا ڈیٹا مانگ لیا ہے۔ اتھارٹی نے ہدایت کی ہے کہ پبلک سکول سپورٹ پروگرام میں موجود تمام طلبا کا ریکارڈ آن لائن کیا جائے۔