میرے اپنے گروہ کے لوگو پڑھو بار بار پڑھو ۔۔۔وہ تنہا مر گئی۔
لیکن موت اس کی سب سے چھوٹی سزا تھی۔
اصل سزا یہ تھی کہ وہ 20دن تک مری ہوئی پڑی رہی اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔
نہ ماں، نہ باپ
نہ بہن، نہ بھائی
نہ دوست، نہ دشمن
نہ کوئی “انسٹاگرام فالوور” جو اُس کے ہر نئے لباس پر تبصرہ کرتا تھا نہ کوئی محرم کچھ بھی نہیں۔۔صرف خاموشی
صرف بدبو...صرف ایک لاش...
وہ عورت جو زندہ تھی لیکن مرنے کی تیاری میں تھی اس نے آزادی چنی اپنا گھر چھوڑا، خاندان سے دور ہو گئی۔
"مجھے کسی کی ضرورت نہیں" کہہ کر خود کو خوداری کا جھانسہ دے کر ان چاہی دنیا میں دھکیل دیا۔۔
نہ بیوی بنی، نہ ماں، نہ بہن بس ایک "آزاد عورت جو دنیا کے سامنے خود کو کچھ بنا کر پیش کرتی رہی لیکن اندر سے…بالکل خالی تھی۔
یہ وہ عورت تھی جو پیار کو کمزوری سمجھتی تھی اور تنہائی کو طاقت
یہ موت ایک نتیجہ ہے، انتخاب کا نتیجہ!
یہ اُس چمکتی دنیا کا انجام ہے جہاں عورت اپنی مرضی کی مالک بنتی ہے لیکن اپنی حفاظت کی ذمہ داری سے محروم ہو جاتی ہے۔
اس نے خود چُنا اکیلا رہنا اکیلا جینااکیلا مرنا
تو پھر حیرت کیوں؟ یہی تو تم نے چاہا تھا نا؟
کیا یہ قتل تھا؟ نہیں، یہ خودکشی جیسی زندگی تھی۔
کوئی زہر نہیں دیا کسی نے گولی نہیں ماری لیکن وہ مری کیونکہ اس نے سب سے رشتہ توڑا اس نے خود کو سب کچھ سمجھا اس نے سوشل میڈیا کو ماں، باپ، شوہر، سب کچھ سمجھ لیا زندگی کو اسکرین بنا کر، حقیقت سے منہ موڑ لیااور جب مر گئی تو کوئی "کمنٹس" کرنے بھی نہ آیا۔سچ یہ ہے کہ وہ مر گئی کیونکہ
???? اس نے حفاظت کو پدرشاہی کہا
???? رشتوں کو زنجیر کہا
???? نکاح کو بوجھ کہا
???? مرد کو دشمن کہا
???? مذہب کو پابندی کہا
???? اور تنہائی کو “کامیابی” کہہ کر گلے لگایا
تو قدرت نے بھی وہی کیا جو اس نے خود چُنا
اکیلا چھوڑ دیا حتیٰ کہ اُس کی لاش بھی خاموشی سے سڑتی رہی
!یاد رکھو
اگر تم رشتے چھوڑو گی تو رشتے تمہیں چھوڑ دیں گے اگر تم حفاظت کو غلامی کہو گے تو تمہیں کوئی بچانے نہیں آئے گا اگر تم شہرت کے پیچھے بھاگو گے تو وہ روشنی تمہیں جلا کر راکھ کر دے گی۔
اب فیصلہ تمہارا ہے تم کہہ سکتے ہو
"میری زندگی، میری مرضی"
"مجھے اکیلے جینا پسند ہے"
"میں شادی نہیں کرنا چاہتی"
"مجھے کسی کی ضرورت نہیں"
ٹھیک ہےلیکن یاد رکھو
کل جب تم اکیلی مرو گی تو تمہاری لاش کے ساتھ صرف بدبو ہو گی نہ کوئی محبت، نہ کوئی مغفرت،حمیرا علی اصغر ایک عورت کا نام نہیں یہ ایک راستہ ہے
یہ وہ سڑک ہے جو شہرت، فالوورز اور مصنوعی زندگی سے شروع ہوتی ہے اور اکیلی لاش پر ختم ہوتی ہے۔میں نہیں چاہتا کہ کوئی عورت اس طرح تنہا مرے
نہ خبر ہو، نہ کفن ہو، نہ کوئی آنکھ نم ہو!
یہ موت ایک انسان کی توہین ہے اور میں اُس موت کے ہر پہلو سے رنجیدہ ہوں۔
لیکن میں ہر اُس بیانیے، ہر اُس فلسفے، اور ہر اُس سوچ کے خلاف ہوں جو عورت کو اصولوں سے آزاد کر کے رشتوں، دین، اور ذمہ داریوں سے بغاوت کا سبق دیتی ہے۔
میں اس مروجہ "آزادی" کا دشمن ہوں۔
جو عورت کو باوقار ماں، بیوی، بہن بنانے کے بجائےاکیلی، لاوارث، اور اندر سے خالی کر دیتی ہے۔
میں اُس نظامِ فکر کے خلاف ہوں
جو کہتا ہے “شادی کمزوری ہے”
‘مرد قید ہے‘‘”خاندان ظلم ہے’’
‘حدود مذہبی انتہا پسندی ہیں’
!نہیں
اصل ظلم یہی ہے جب عورت خود کو سب کچھ سمجھ کر سب کچھ کھو دیتی ہے
تو ہاں
میں اس موت پر افسردہ ہوں لیکن اُس طرزِ زندگی پر شرمندہ ہوں جو اس موت کا راستہ بناتی ہے۔
اور اگر آج بھی ہم نے سچ نہ کہا تو کل ہر گلی میں ایک “حمیرا” اکیلی، خاموش، اور لاوارث مری ہوئی ملے گی
اور پھر صرف بدبو رہے گی ماتم نہیں۔