اتحادیوں کو منانے کیلئے حکومتی بڑوں کی بیٹھک

اتحادیوں کو منانے کیلئے حکومتی بڑوں کی بیٹھک

(قذافی بٹ) اتحادیوں سے پی ٹی آئی کےمعاملات، اتحادیوں کو منانےکا مشن، حکومتی ارکان بڑے اتحادیوں سے ملنے سے پہلے خود سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔

مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے ملاقات سے قبل تین بڑوں کا مشاورتی اجلاس ہوگا، 3 رکنی کمیٹی گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور،وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور شفقت محمود کی اہم بیٹھک آج ہوگی، اجلاس میں مسلم لیگ (ق) کےساتھ مذاکرات میں کیا موقف اختیار کرناہے اس بارے میں تجاویز کاجائزہ لیاجائےگا۔

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کا کہنا ہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم اور (ق) لیگ میں مکمل رابطہ ہے اور سب ایک ہیں.  حکومتی مزاکراتی کمیٹی کے رکن گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کمیٹی کے اجلاس سے پہلے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ اتحادیوں کے تحفظات کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی لڑائی شروع ہوگئی ہے، قومی مفادات کے تحفظ کیلئے حکومت اور (ق) لیگ ایک پیج پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کیخلاف اے سے زیڈ تک جتنی مرضی پلان بنا لیں، اپوزیشن پلان ہی بناتی رہے گی اور حکومت آئینی مدت مکمل کر لے گی۔  چوہدری محمدسرور کا کہنا تھا کہ اپوزیشن والے سن لیں 2023تک عمران خان ہی وزیراعظم ہیں۔ کسی ان ہاؤس تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ہر شعبے میں ریلیف دینا عمران خان کاویژن اورحکومت کا عزم ہے۔ عمران خان کی قیادت میں پاکستان قائد اعظم کے وژن کی عملی تصویر بن رہا ہے۔

واضح رہے کچھ روز قبل ق لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے پارٹی کے اعلیٰ سطح کے ہنگامی اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ پہلے طے شدہ معاملات پر عملدرآمد کیا جائے پھر پی ٹی آئی سے اگلی بات ہوگی جبکہ چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ تبدیلی اچھی بات ہے مگر بار بار تبدیلی کی اچھی روایت نہیں۔اس حوالے سے ایک اور موقع پر انھوں نے عمران خان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مشورہ دیا کہ وہ فسادیوں سے دور رہیں۔  اتحادیوں سے محبت اور فسادیوں سے دوری کا سبق دیں،  فسادیوں نے ہر دور میں نفرت، انتشار کی سیاست کی۔ اپنی اپنی نہیں بلکہ پاکستان کی بولی بولیں۔ 

24 نیوزکے پروگرام نسیم زہرا ایٹ8 میں گفتگو کرتے ہوئے چودھری پرویز الہیٰ نے کہا کہ  جہانگیرترین کی سربراہی میں بننےوالی کمیٹی سےملاقاتوں کے بعد معاملات پرعملدرآمد شروع ہوگیا تھا،  جواب رک چکا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقوں کے لئے فنڈز کی فراہمی کی یقین دہانی کرادی گئی تھی، ہمارے اراکین اسمبلی نے اپنے علاقوں میں اسکیموں کا اعلان کردیا تھا لیکن اب سب رک گیا ہے، عملدرآمد شروع ہونے کے بعد کمیٹی میں تبدیلی حیران کن ہے۔ وزیراعظم  عمران خان  دیکھیں معاملات کون روک رہا ہے۔