سٹی42: دہلی میں ہندو مسلم فساد کے کیس میں پانچ سال سے بلا جواز، بے جرم قید مسلمان نوجوانوں کی ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ میں خدا خدا کر کے مکمل ہو گئی، اب کورٹ نے ان نوجوانوں کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ مھفوظ کر لیا ہے۔
دہلی کے دو سٹوڈنٹ نوجوانوں عمر خالد اور شرجیل امام ، ایک سٹوڈنٹ لڑکی گلفشاں فاطمہ کی ضمانت کی درخواستیں پانچ سال سے زیریں عدالتوں میں دھکے کھا رہی تھیں۔
زیریں عدالت کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے بھی ان کی نہ سنی اور ضمانت کی درخواست کو کئی سال تک لٹکائے رکھنے کے بعد ضمانت لینے سے انکار کر دیا جو دلائل اور کیس کے شواہد کو دیکھتے ہوئے سراسر بلاجواز پایا گیا۔گلفشاں فاطمہ، شرجیل امام اور عمر خالد کے ساتھ کئی دیگر ملزموں نے اب کئی ماہ سے سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی ہے جس کی سماعتیں معمولی عذر کے سبب بار بار ملتوی ہوئیں، لیکن آخر آج عدالت نے سماعت مکمل ہونے کا اعلان کر ہی دیا۔ سماعت تو مکمل ہو گئی لیکن عدالت نے فیصلہ نہیں دیا۔
یہ سب نوجوان بدستور دہلی کی جیل میں بند ہیں۔
ان نوجوانوں کا جرم بس اتنا تھا کہ انہوں نے دہلی کی نام نہاد قوانین کی زد میں لائی گئی مسلم کمیونٹی کے حقوق کے متعلق تقریریں کی تھیں جو بظاہر اشتعال انگیز نہیں پائی گئیں لیکن بعد میں فساد ہوا جس میں کئی لوگ مارے گئے۔
بھارتی میڈیا میں آج بدھ کے روز شائع ہونے والی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ وکیل سدھارتھ نے کہا کہ ’شرجیل کو فساد سے کچھ روز قبل ہی 28 جنوری 2020 کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ایسے میں اس کی تقاریر کی بنیاد پر فسادات کے متعلق کسی بھی طرح کی مجرمانہ سازش کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔‘
دہلی فساد سازش کیس کے نام سے مشہور اس مقدمے میں عمر خالد، شرجیل امام اور گلفشاں فاطمہ سمیت دیگر کی ضمانت عرضیوں پر سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹن این وی انجریا کے بنچ نے دہلی ہائی کورٹ کے 2 ستمبر کو ضمانت خارج کرنے کے حکم کے خلاف سماعت مکمل کر لی۔ عرضی گزاروں نے 5 سال سے زائد کی حراست، ٹرائل میں تاخیر اور تشدد کے لیے اکسانے کے کوئی ثبوت نہ ہونے کی دلیل دی ہے۔
سپریم کورٹ میں بھی پولیس نے مقدمہ چلانے میں ناکامی، ثبوت سامنے لانے میں ناکامی اور تب بھی نوجوانوں کو قید میں رکھنے کے محض بھونڈے جواز پیش کئے، جن کی بظاہر کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
دہلی پولیس نے دہلی فسادات کو ریجیم چینج ( مودی حکومت کو گرانے) اور معیشت کو نقصان پہنچانے کے مقصد سےایک نام نہاد ملک گیر ’پین انڈیا‘ سازش قرار دیا۔
عدالت میں اپنی بات رکھتے ہوئے پولیس نے کسی واٹس ایپ گروپ، ڈی پی ایس جی اور یونیورسٹی اویرنیس کیمپین ٹیم کا حوالہ دیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مقدمہ چلانے میں تاخیر دراصل درخواست گزاروں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ "تعاون" کرنے پر ٹرائل 2 سال میں مکمل ہو سکتا ہے۔
اس سے پہلے کی سماعت میں شرجیل امام نے کہا تھا کہ وہ کوئی دہشت گرد نہیں ہیں۔ شرجیل امام نے بغیر کسی مکمل سماعت یا سزا کے بغیر خطرناک تعلیم یافتہ دہشت گرد قرار دیئے جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا جبکہ عمر خالد نے کہا کہ جب فساد ہوئے تھے تو وہ دہلی میں ہی نہیں تھے۔
عدالت میں شرجیل امام کی جانب سے پیش ہوئے وکیل سدھارتھ دوے نے کہا کہ ’’میں دہشت گرد نہیں ہوں، جیسا کہ پولیس نے میرے بارے میں کہا ہے۔ میں کوئی ملک مخالف نہیں ہوں، جیسا ریاست کی جانب سے کہا گیا ہے۔ میں پیدائشی طور پر اس ملک کا شہری ہوں۔ اب تک مجھے کسی بھی جرم کے لیے قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔‘‘
جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریہ کے بنچ کے سامنے دلیل پیش کرتے ہوئے وکیل سدھارتھ دوے نے کہا کہ ’’شرجیل امام کو فساد سے کچھ روز قبل ہی 28 جنوری 2020 کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ایسے میں تقریروں کی بنیاد پر فسادات کے متعلق کسی بھی طرح کی مجرمانہ سازش کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے خلاف مارچ 2020 میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔‘‘
نومبر میں سپریم کورٹ نے گلفشاں فاطمہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کی
سپریم کورٹ نے پیر، 11 نومبر کو، شمال مشرقی دہلی فسادات کیس کی ملزمہ گلفشاں فاطمہ کی طرف سے دائر ضمانت کی پیٹیشن کو خارج کر دیا تھا۔
فاطمہ نے عدالت عظمیٰ میں ایک رٹ پیٹیشن پیش کی تھی کہ یا تو ضمانت منظور کی جائے یا غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے الزامات میں شامل نام نہاد سازش کے کیس میں زیر التوا ضمانت کی درخواست پر فیصلہ کرنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ کو متبادل ہدایت دی جائے۔ یہ درخواست دراصل ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست کو مسلسل لٹکائے رکھنے کے سبب دائر کرنا پڑی۔
سپریم کورٹ نے 11 نومبر، یہ کہتے ہوئے عرضی کو خارج کر دیا کہ دہلی ہائی کورٹ 25 نومبر کو ضمانت کی عرضی پر تیزی سے سماعت کر سکتی ہے جب تک کہ "غیر معمولی حالات" نہ ہوں۔
اس وقت جسٹس بیلا ایم ترویدی اور ستیش چندر شرما کی بنچ نے اس معاملے پر غور کیا۔
سماعت کے دوران جسٹس ترویدی نے یہ بھی کہا کہ شریک ملزم شرجیل امام کی طرف سے دائر اسی طرح کی ایک رٹ درخواست کو ہائی کورٹ سے ضمانت کی درخواست پر جلد فیصلہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے نمٹا دیا گیا تھا۔
بعد میں دہلی ہائی کورٹ نے گلفشاں کی درخواست ضمانت کو بے رحمی کے ساتھ مسترد کر دیا اور انہین بھی ضمانت کی درخواست لے کر سپریم کورٹ آنا پڑا۔
گلفشاں فاطمہ کو کب کیوں گرفتار کیاگیا
گلفشاں فاطمہ کو اپریل 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا، ابتدائی طور پر سی اے اے مخالف مظاہروں سے منسلک احتجاج سے متعلق سرگرمی کے لیے، پھر بعد میں 2020 کے دہلی فسادات کے سلسلے میں یو اے پی اے کے تحت مزید سنگین دفعات کے تحت ان پر فرد جرم عائد کی گئی۔

پانچ برسوں کے دوران، اسی طرح کے مقدمات میں شریک ملزموں کو ضمانت مل چکی ہے، لیکن ان کی ضمانت کی درخواستیں بار بار مسترد کی گئیں اور مسترد کئے جانے سے بھی زیادہ سنگین یہ ہوا کہ درخواستیں تاخیر کا شکار کی گئیں تاکہ وہ سپریم کورٹ تک نہ جا سکیں۔حالیہ سماعت میں درفشاں فاطمہ کے وکیل نے یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا کہ پولیس جس نام نہاد ریجیم چینج سازش کا سپریم کورٹ میں حوالہ دے رہی ہے اس کا کسی چارج شیٹ مین کوئی ذکر تک نہیں۔ اور یہ کہ بغیر کسی مقدمے کے اس کی طویل حراست بلا جواز ہے۔