ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کال سینٹرز میں کام کرنے والوں کیلئے بڑے ریلیف کا اعلان

وفاقی حکومت نے کال سینٹرز کو توانائی بحران کے دوران اوقاتِ کار کی پابندی سے مکمل استثنیٰ دے دیا۔ 

کال سینٹرز میں کام کرنے والوں کیلئے بڑے ریلیف کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شیزہ خواجہ نے ملک بھر کے کال سینٹرز اور بزنس پراسیس آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ کال سینٹرز کو توانائی بچت مہم کے تحت مقررہ وقت پر بند ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور وہ اپنی آپریشنز چوبیس گھنٹے جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی وفود کی آمد کے پیشِ نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں اعلان کردہ مقامی تعطیلات کا اطلاق بھی کال سینٹرز پر نہیں ہوگا، تاکہ ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرنے والا آئی ٹی سیکٹر متاثر نہ ہو۔

شیزہ خواجہ نے اعتراف کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے استثنیٰ کی معلومات تمام اسٹیک ہولڈرز تک پہنچنے میں تاخیر ہوئی ہے، جس کی وجہ سے عملدرآمد میں کچھ چیلنجز درپیش ہیں۔ تاہم، حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ کال سینٹرز کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

کال سینٹرز کو درپیش کسی بھی مسئلے، خصوصاً سیکیورٹی یا اوقاتِ کار سے متعلق شکایات کے حل کے لیے وزیر آئی ٹی نے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کال سینٹرز درج ذیل ذرائع سے مدد حاصل کر سکتے ہیں:

پی ایس ای بی پورٹل کے ذریعے 24 گھنٹے میں شکایات کا ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بی پی او انڈسٹری پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کا اہم ستون ہے، اس لیے اسے ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ترجیح ہے، پی ایس ای بی کے ممبرز اور غیر ممبرز دونوں اس سپورٹ ڈیسک سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔