ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ صحت کے افسران کے خلاف حکمِ امتناعی کے باوجود ملازم کو برخاست کرنے کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر دی۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کے سیکرٹری عظمت محمود، اسپیشل سیکرٹری طارق محمود اور ڈین انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے خلاف دائر توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار سرفراز احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اس کی برخاستگی کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کر رکھا تھا، جس کے تحت محکمہ صحت کو پابند کیا گیا تھا کہ حتمی فیصلے تک اسے نوکری سے نہ نکالا جائے۔ تاہم عدالتی حکم کے باوجود متعلقہ افسران نے غیر قانونی طور پر برخاستگی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جو عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ عظمت محمود سے وضاحت طلب کی، تاہم وہ عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔
جس پر عدالت نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے:“سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ نے عدالت کے احکامات کا مذاق بنایا ہے۔سرکاری افسران کا ایسا غیر سنجیدہ رویہ ناقابلِ برداشت ہے۔”عدالت نے تینوں افسران , سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ عظمت محمود، اسپیشل سیکرٹری طارق محمود اور ڈین انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ — کو توہینِ عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کر دیے اور انہیں آئندہ سماعت پر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ مذکورہ افسران کے خلاف فردِ جرم عائد کی جا سکتی ہے، اور آئندہ سماعت پر چارج شیٹ جاری کرتے ہوئے پراسیکیوٹر مقرر کیا جائے گا۔جسٹس راحیل کامران شیخ نے ریمارکس دئیے کہ حکمِ امتناعی کی خلاف ورزی محض عدالتی حکم عدولی نہیں بلکہ آئین اور قانون کی روح کی توہین ہے۔عدالت نے کیس کی مزید کارروائی آئندہ سماعت تک ملتوی کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر افسران نے اپنی پوزیشن واضح نہ کی تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔