دوا کے مضر اثرات ، کورونا کے سیریس مریضوں کو کلوروکین دینے سے روک دیا گیا

 دوا کے مضر اثرات ، کورونا کے سیریس مریضوں کو کلوروکین دینے سے روک دیا گیا

(زاہد چوہدری) کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ نے کورونا کے سیریس مریضوں کو اینٹی ملیریا دوا کلوروکین دینے سے روک دیا،  تمام سرکاری ہسپتالوں کو آئی سی یو اور ایچ ڈی یو میں زیر علاج کوروناکے شدید علیل مریضوں پر کلوروکین کا تجربہ بند کرنے کی ہدایت جاری کردی گئیں۔

ذرائع کے مطابق کورونا کے شدید علیل مریضوں میں اینٹی ملیریا دوا کلوروکین کا استعمال مضر صحت ہونے کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔ تمام سرکاری ہسپتالوں کے سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ کوروناکے کے سیریس مریضوں کو کلورین دوا کا استعمال ہرگز نہ کروایا جائے۔

دوسری جانب کرونا وائرس کے خلاف لڑنے والے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کےلئے خطرات بڑھ گئے۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں مزید 24 ہیلتھ کئیر ورکرز کرونا میں مبتلا ہوئے۔ مزید ایک ڈاکٹر جان کی بازی ہار گیا۔

وزارت نیشنل ہیلتھ اینڈ ایمرجنسی سروس کے مطابق اب تک ڈاکٹرز سمیت طبی عملے کے 11 افراد کرونا سے جان کی بازی ہارچکے ہیں۔  وائرس سے متاثرہ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف کی تعداد 736 تک پہنچ گئی۔ اب تک 422 ڈاکٹرز کرونا سے متاثر ہو چکے ہیں.

رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 184،خیبرپختونخوا میں 86 بلوچستان میں 136، سندھ 134اوراسلام آباد میں 71 ہیلتھ کئیر ورکرز کرونا  میں مبتلا ہوئے۔ متاثرہ نرسز کی تعداد بھی 104 تک پہنچ گئی ہے۔چیئرمین ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن ڈاکٹر اسفند یار نے حکومت سے اپیل کہ وہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو حفاظتی سامان فراہم کرے۔

وزارت ہیلتھ کےمطابق میڈیکل سے وابستہ 203 افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔جن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ملک بھر میں 164 ہیلتھ کئیر ورکرز صحت یاب ہونےپر اسپتال سے ڈسچارج کردیاگیا ہے۔

خیال رہے کہ ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد27 ہزار474 تک پہنچ گئی ہے۔ پچهلے 24 گهنٹوں میں کرونا کےمزید ایک ہزار 637 مریض سامنے آگئے جبکہ وائرس نےمزید24 افراد کی جان لےلی۔ پنجاب میں کرونا کے سب سے زیادہ 10ہزار، 417 مریض، سندھ میں تعداد 9ہزار، 691 ہوگئی، خیبرپختونخوامیں 4327، بلوچستان میں1876 مریض، گلگت بلتستان میں 421، اسلام آباد 609 اور آزادکشمیر میں 79کیس رپورٹ ہوئے۔