سٹی42:پاکستان کی میزبانی میں ہو رہی چیمپئینز ٹرافی "دبئی کی وکٹ" نے جیت لی۔
انڈیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والے فائنل میچ میں نیوزی لینڈ کے کیپٹن مچل سینٹنر نے ٹاس جیتا تو خود بیٹنگ کرنے کا اعلان کر دیا۔ بلیک کیپس جنہوں نے چیمپئینز ٹرافی کے سیمی فائنل مین آئی سی سی کی ہسٹری کا سب سے بڑا مجموعہ 362 رنز بنایا تھا۔
آج "دبئی کی وکٹ" پر اس ہی ٹیم کو کل دیپ یادیو اور ورون چکرورتی جیسے انڈیا کی ڈومیسٹک کرکٹ سے اٹھ کر آئے سپنرز نے 251 رنز سے زیادہ سکور نہیں بنانے دیا۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم نے مقررہ 50 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 251 رنز اسکور کیے۔
نیوزی لینڈ کے وِل یونگ اور رچن رویندرا نے اوپننگ کی۔ دونوں نے 8 اوورز تک اچھا کیھل کھیلا لیکن ول یونگ ورون چکرورتی کی غیر متوقع طور پر زیادہ گھومی ہوئی بال کا شکار ہو کر آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے 18 رنز بنائے تھے اور نیوزی لینڈ کا مجموعہ 57 تھا۔
اس کے دو ہی اوورز بعد انڈیا کی ڈومیسٹک کرکٹ سے اٹھ کر آئے لیگ بریک سپنر کلدیپ یادو نے سیمی فائنل میں سینچری کرنے والے رویندرا کو آؤٹ کر دیا۔ اس وقت نیوزی لینڈ کا مجموعہ 69 رنز تھا۔ ای کاوور کے وقفے کے بعد بال دوبارہ کلدیپ یادو کو ملی تو اس اوور میں دنیا کے متحمل ترین بیٹر کین ولیم سن کلدیپ کی غیر متوقع باؤلنگ کا نشانہ بن کر آؤٹ ہو گئے۔ اس وقت نیوزی لینڈ کا مجموعہ 75 رنز تھا۔
بلیک کیپس کے چوتھے بہترین بیٹر ٹوم لیتھم کو بھی سپنر نے ہی آؤٹ کیا، وہ جدیجا کا نشانہ بنے۔
سپنرز کے لئے ٹیلر کی گئی خاص الخاص وکٹ سے پے درپے چار کاری زخم کھانے کے بعد بلیک کیپس نے مزید سنبھل کر کوشش کی اور بہت دیر تک وکٹ بچائے رکھنے میں کامیاب ہو گئے۔ پانچویں وکٹ 165 رنز پر گری۔ اس مرتبہ شکار گلین فلپس تھے اور شکاری وہی سپنر باؤلر ورون چکراورتھی تھا۔
نیوزی لینڈ کی چھٹی وکٹ 211 رنز پر گری، ڈیرل مچل 63 رنز کی اننگ کھیل کر محمد شامی کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد کیپٹن مچل سینٹنر آئے جنہوں نے 9 رنز بنائے لیکن رن آؤٹ ہوئے۔
ساتویں وکٹ 239 رنز پر گری اور کپتان مچل سینٹنر 8 رنزبناکر رن آؤٹ ہوئے۔
انڈیا کے اوپنرز روہت شرما اور شبمن گل نے ابتدا ہی سے ایسے کھیلا جیسے وہ "دبئی کی وکٹ" پر نہیں بلکہ اپنی کلب کے نیٹ پر ہوں۔
روہت اور شبمن کی 105 رنز کی پارٹنر شپ نے ہی میچ کا رخ متعین کر یدا تھا۔
جب بلیک کیپس کے کیپٹن مچل سینٹنر نے خود باؤلنگ لی اور اپنے ساتھ سپنر رویندرا کو لائے تو صورتحال یکسر بدل گئی۔ شبمن گل 31 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ انڈیا کی رنز بنانے کی مشین کو بریک لگ گئی۔ ویرات کوہلی ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔
روہت شرما نے 76 رنز کی اننگز کھیلی۔
مچل سینٹنر اور مائیکل بریسویل نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، رویندرا کو ایک وکٹ ملی ۔ ایک وکٹ کائل جیمی سن کو ملی۔
، ہاردک پانڈیا نے 18 اور اکشر پٹیل نے 29 رنز بنائے، شریاس آئیر نے 48 رنز بنائے۔ کے ایل راہول 34 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
قذافی کی وکٹ پر سوپر ہیرو لیکن دبئی کی وکٹ پر زیرو
پاکستان میإ آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی کے میچوں کے لئے تین شہروں کے سٹیڈیمز کی تعمیر نو کی گئی اور وہاں انتڑنیشنل سٹینڈرڈ ک یشاندار وکٹیں بنائی گئیں، ان وکتوں پر جتنے بھی میچ ہوئے کسی ٹیم نے وکٹ کے غیر متوقع رویہ کی شکایت نہیں کی۔ قذافی سٹیڈیم کی وکٹ سب سے دلچسپ رہی، اس کٹ نے باؤلرز کو اپنی ورائیٹیز آزمانے کا پورا موقع دیا لیکن مجموعی طور پر بیترز کو رنز بنانے کی زیادہ سپیس دی۔ اس وکٹ پر آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی کی ہسٹری کے تین سب سے بڑے ٹیم سکور ریکارڈ ہوئے۔ اس کے بالکل برعکس انڈیا کو دبئی میں جو وکٹ مہیا کی گئی اس پر فاسٹ باؤلر برائے نام کامیابی حاصل کر پائے اور انڈیا کے خاص طور سے ٹیم مین ڈالے سپنرز اس وکٹ پر خوب چمکے۔
انڈیا چیمپئینز ٹرافی کی واحد ٹیم ہے جس نے چار سپپنر باؤلرز کو لے کر ون ڈے کرکٹ کے اس میجسٹک ایونٹ میں اپنی مرضی کی شرائط یعنی مرضی کے سٹیڈیم اور مرضی کی وکٹ کے ساتھ کھیل کھیلا۔
آسٹریلیا اور اس کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیموں نے لاہور کے ْقذافی سٹیڈیم کی وکٹ پر چیمپئینز ٹرافی کے سب سے بڑے ٹیم مجموعے بنائے لیکن یہ دونوں ٹیمیں دبئی جا کر انڈیا سے کھیلین تو انڈیا کے ڈومیسٹک کرکٹ سے قدرے بلند معیار کے سپنرز نے انہیں بری طرح رگیدا اور دونوں بیسٹ سکورنگ ٹییموں کو بہت تھوڑے مجموعہ پر اننگز تمام کروا دیں۔
آج فائنل میں تیسری مرتبہ یہی کہانی دہرائی گئی۔