ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

رام مندر چندہ چوری معاملہ، نریندر مودی اپنا کردار واضح کریں ، کانگرس کا مطالبہ

 رام مندر چندہ چوری معاملہ، نریندر مودی اپنا کردار واضح کریں ، کانگرس کا مطالبہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: بھارت کی بڑی اپوزیشن جماعت کانگرس نے رام مندر چندہ چوری معاملے پر  ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم عوام کے سامنے واضح کریں کہ اس پورے معاملے میں ان کا کوئی کردار ہے یا نہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگریس کے رہنما سریندر راجپوت نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ رام مندر ٹرسٹ کی تشکیل وزیر اعظم نریندر مودی کی منظوری سے ہوئی تھی، اسلئے ٹرسٹ کے کام کاج اور اس پر لگنے والے الزامات سے وہ اپنی ذمہ داری سے الگ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہی رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا اور  دیوتا کی مورتی نصب کرنے کی تقریب میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ کی تشکیل بھی وزیر اعظم کی مرضی سے ہوئی اور اس میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کا تعلق ایک مخصوص نظریے سے ہے، جبکہ مذہبی شخصیات کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ رام مندر کروڑوں عقیدت مندوں کے ایمان اور جذبات سے جڑا معاملہ ہے، اس لیے چندہ چوری جیسے سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔
رپورٹ کے مطابق کانگریس نے الزام لگایا کہ چندہ چوری معاملے میں اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور چند افراد کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ کانگرس  نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں وزیر اعظم کے دفتر، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور وشو ہندو پریشد سے بھی جواب طلب کیا جائے اور اگر ضرورت ہو تو ان سے وابستہ افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جائے۔سریندر راجپوت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ رام مندر ٹرسٹ کو حق اطلاعات قانون کے دائرے سے باہر کیوں رکھا گیا۔ انکےمطابق اگر ٹرسٹ مکمل طور پر مذہبی ادارہ ہے تو اس میں زیادہ تر ایسے افراد کو کیوں شامل کیا گیا جن کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی یا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ان سوالات کے جواب عوام کو دیے جانے چاہئیں۔
 
ااپوزیشن جماعت کانگریس نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ پارٹی کے مطابق اس ٹیم کی سربراہی وجے وشواس پنت کو سونپی گئی ہے، جن کے خلاف پہلے سے دھوکہ دہی اور جعلسازی سے متعلق مقدمات درج ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ کانگریس نے سوال اٹھایا کہ ایسے شخص کو اتنے حساس معاملے کی جانچ کی ذمہ داری کیوں دی گئی۔پریس کانفرنس کے دوران کانگریس نے رام مندر کی تعمیراتی لاگت پر بھی سوال اٹھائے۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ اگر بعض کمپنیوں نے کم لاگت میں تعمیر کی پیشکش کی تھی تو پھر تعمیر پر تقریباً 2100 کروڑ روپے کیسے خرچ ہوئے۔ کانگریس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عطیہ میں ملنے والے بعض زیورات اور چاندی کی اینٹوں کے بارے میں بھی وضاحت ہونی چاہیے۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ ٹرسٹ کو مذہبی ادارے کے بجائے سیاسی مرکز بنا دیا گیا۔