ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

میڈیکولیگل رپورٹس کی ڈیجیٹلائزیشن التوا کا شکار، پانچ ہسپتالوں کو شوکاز نوٹس

میڈیکولیگل رپورٹس کی ڈیجیٹلائزیشن التوا کا شکار، پانچ ہسپتالوں کو شوکاز نوٹس
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

زاہد چودھری: پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کی ڈیجیٹلائزیشن پر عملدرآمد نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ عدالت عالیہ کی ہدایت کے باوجود متعدد ہسپتالوں میں اب بھی آن لائن کمپیوٹرائزڈ نظام کے بجائے ہاتھ سے لکھے گئے میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور پوسٹ مارٹم رپورٹس جاری کی جا رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق عدالت کی جانب سے میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کو ڈیجیٹلائزڈ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی تاکہ ریکارڈ میں ردوبدل کے امکانات ختم کیے جا سکیں، تاہم چھ ماہ گزرنے کے باوجود اس پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ نے اس معاملے میں اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے متعلقہ ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس (ایم ایس) کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سروسز ہسپتال، نشتر ہسپتال ملتان، علامہ اقبال میموریل ہسپتال سیالکوٹ، علامہ اقبال ہسپتال ڈی جی خان اور ڈاکٹر فیصل مسعود ہسپتال سرگودھا کے ایم ایس صاحبان کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ہاتھ سے تحریر کردہ میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور پوسٹ مارٹم رپورٹس میں ردوبدل کا خدشہ موجود ہے، جس کے پیش نظر انہیں آن لائن نظام سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، مگر ہسپتالوں کو نہ مطلوبہ فنڈز فراہم کیے گئے اور نہ ہی اضافی ہیومن ریسورس مہیا کی گئی، جس کے باعث منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پانچ سرکاری ہسپتالوں نے مجموعی طور پر 3,644 میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور 283 پوسٹ مارٹم رپورٹس جاری کیں۔ ان میں نشتر ہسپتال ملتان سے 816 میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور 182 پوسٹ مارٹم رپورٹس، علامہ اقبال میموریل ہسپتال سیالکوٹ سے 1,245 میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور 43 پوسٹ مارٹم رپورٹس، ڈاکٹر فیصل مسعود ہسپتال سرگودھا سے 735 میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور 48 پوسٹ مارٹم رپورٹس، علامہ اقبال ہسپتال ڈی جی خان سے 768 میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس اور 10 پوسٹ مارٹم رپورٹس جبکہ سروسز ہسپتال لاہور سے 680 میڈیکولیگل سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔