ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز کو دل کی تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں 48 گھنٹے تک نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ان کی حالت تسلی بخش ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کو دل کی تکلیف پر اسپتال داخل کرادیا گیا ہے۔ انہیں رات گئے پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لایا گیا تھا، تاہم ان کی حالت تسلی بخش ہے۔
اسپتال میں شبلی فراز کی ڈاکٹرز مکمل نگرانی کررہے ہیں اور انہیں علاج معالجہ فراہم کیا جارہا ہے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ شبلی فراز کی اس سے قبل انجیو گرافی ہوچکی ہے۔ پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈاکٹر سے وہ علاج بھی کروا رہے ہیں۔
ترجمان پی آئی سی رفعت انجم کے مطابق سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کو گزشتہ شب ہنگامی طور پر منتقل کیا گیا تھا۔انہیں دل کی تکلیف ہوئی، جس کے بعد ابتدائی علاج کیاگیا۔
پی آئی سی کی ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم نے شبلی فراز کو آئندہ 24 سے 48 گھنٹے نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ڈاکٹرز کی ٹیم آج شبلی فراز کے آئندہ کے علاج کے بارے میں مشاورت کرے گی۔
یاد رہے کہ مارچ 2023 میں پی ٹی آئی رہنما کو طبیعت ناسازی کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ شبلی فراز توشہ خانہ کیس کی سماعت کے موقع پر اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان کے ہمراہ تھے، بعد ازاں میڈیا پر ان کے اچانک غائب ہو جانے کی خبریں نشر ہوئی تھیں۔
بتایا گیا تھا کہ سابق وفاقی وزیر کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ وہ تشدد سے زخمی ہوئے اور شیلنگ کے باعث پھیپھڑے متاثر ہوئے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں عمر ایوب، اسد عمر اور سینیٹر فیصل سلیم نے شبلی فراز کی عیادت کی اور خیریت پوچھی تھی۔