ویب ڈیسک: ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نئی بحری گزرگاہوں کے تعین کے لیے عمان کے ساتھ معاہدہ آخری مراحل میں ہے، تاہم امریکا کی جانب سے دیگر شرائط پوری کیے جانے تک آبی گزرگاہ دوبارہ کھولنے کا امکان نہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ تقریباً مکمل ہوچکا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد تجارتی جہازوں کے لیے استعمال ہونے والی نئی بحری گزرگاہوں کا تعین کیا جائے گا۔
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ صرف ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ طے پانے سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی بلکہ اس کے لیے امریکا کو ایران کی جانب سے رکھی گئی دیگر شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے اور واشنگٹن کی جانب سے جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی تک تہران مذاکرات شروع نہیں کرے گا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے امریکی دھمکیاں ختم کرنے، ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں روکنے، ایران کی بحری ناکا بندی اور پابندیاں ختم کرنے، جبکہ ایرانی اثاثے جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز کھولنے کی شرائط میں ایران کو جنگ کے دوران پہنچنے والے نقصانات کا امریکا کی جانب سے ہرجانہ ادا کرنا بھی شامل ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق تجارتی جہازوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت بحال ہونے کے معاہدے کے بعد امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکا بندی ختم کرے گا، جبکہ امریکی اقدامات ایران کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں پر عملدرآمد سے منسلک ہوں گے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے اہم آبی گزرگاہ ہے، جس سے ایران کی جانب سے بندش سے قبل عالمی تیل اور ایل این جی کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی تھی۔