سٹی42: بھارت میں لوک سبھا الیکشن چوری ہونے کے سکینڈل کے بعد اہم ریاست کے اسمبلی الیکشن میں بھی سیاسی پارٹی کو "واضح اکثریت سے یقینی کامیابی" کی پیشکش کا سکینڈل بھی سامنے آ گیا۔
اس سکینڈل کا حوالہ شرد پوار کے 9 اگست 2025 کو ناگپور میں ایک پریس بریفنگ کے دوران دیا گیا ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 2024 کے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات سے قبل نئی دہلی میں دو افراد نے ان سے رابطہ کیا تھا، جس نے اپوزیشن اتحاد مہا وکاس اگھاڑی (MVA) کی 288 میں سے 160 سیٹوں پر یقینی فتح کا وعدہ کیا تھا۔ پوار نے کہا کہ انہوں نے ان افراد کو راہول گاندھی سے متعارف کرایا، لیکن دونوں رہنماؤں نے لوگوں سے براہ راست مینڈیٹ حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔
شرد چندر گووند راؤ پوار ایک سینئیر ہندوستانی سیاست دان اور نیشنلسٹ کانگرس پارٹی کے لیڈر ہیں۔ شرد پوار نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کے طور پر چار مرتبہ خدمات انجام دیں اور مرکزی حکومت کی میں کابینہ کے عہدوں پر فائز رہے، وہ سابق وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ کے وزیر دفاع اور منموہن سنگھ کے وزیر زراعت تھے۔ جس الیکشن کو چوری کرنے کی پیشکش کا انکشاف انہوں نے آج کیا اس کے دوران وہ مہاراشٹر میں کانگرس اور اپوزیشن اتحاد کے لیدر کی حیثیت سے سرگرم تھے۔ یہ الیکشن بعد میں بظاہر غیر مقبول بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے حیرت ناک طریقہ سے جیت لیا تھا۔
"ووٹ چوری" اور "الیکشن چوری" کے الزامات پر پبلک مباحثہ
سابق وزیر دفاع اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ شرد پوار کا یہ انکشاف راہول گاندھی کے "ووٹ چوری" ("ووٹ چوری") کے الزامات پر بڑھتے ہوئےعوامی مباحثہ اور سیاسی تناؤ کے درمیان سامنے آیا ہے - انتخابی نتائج میں ہیرا پھیری کے لیے بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے درمیان ملی بھگت کا الزام مئی 2024 کے لوک سبھا الیکشن میں غیر مقبول ہونے کے باوجود بھاجپا کو کافی نشستیں مل جانے کے بعد سے زیر بحث تھا لیکن دو روز پہلے کانگرس پارٹی نے اپنی ریسرچ پبلک کے سامنے پیش کی تو اس الزام پر پبلک مباحثہ شروع ہو گیا ہے۔یہ مباحثہ بھارت کی انتخابی مشینری کی ساکھ کو درپیش چیلنجوں سے متعلق ایک وسیع تر سیاسی تنازعہ کا حصہ بن رہا ہے۔
2024 کے مہاراشٹر کے انتخابات سے قبل ایم وی اے کے لیے "160 سیٹوں کی ضمانت یافتہ جیت کی پیش کش" کے بارے میں شرد پوار کا انکشاف "الیکشن چوری" کے منظم نیٹ ورک کی موجودگی کا انکشاف ہے۔ شرد پوار کا کہنا ہے کہ اس پیشکش کو انہوں نے اور راہول گاندھی نے مسترد کر دیا تھا۔
اپنی نیوز کانفرنس میں شرد پوار نے اس بارے میں کوئی توثیق فراہم نہیں کی ہے کہ مہاراشٹر اسمبلی میں 288 میں سے 160 نشستوں پر یقینی فتح کا انتظام کر دینے کی پیشکش کرنے والے یہ دو افراد کون تھے یا آیا ان کی پیشکش میں کوئی وزن تھا — اب تک شرف پوار کے اس دعوے کی مزید تفصیل سامنے نہیں لائی گئی۔
اب کیوں بتایا؟ مڈٹرم الیکشن کی طرف پیش قدمی؟
کانگرس کے لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے "ووٹ چوری" کے الزامات کے بعد شفافیت کے بڑھتے ہوئے مطالبات کے تناظر میں یوزیراعظم نریندر مودی کی لجیٹی میسی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ پاکستان کے 6 مئی سے 10 مئی تک ہونے والی جنگ میں مار کھانے، امریکہ سے تجارتی ٹیرفس پر مار کھانے اور معیشت کی بہتری میں کوئی کرشمہ نہ دکھا پانے کے ساتھ آنے والے دنوں میں مودی کی حکومت کو مڈ ٹرم الیکشن کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔
نریندر مودی کے الیکشن کمیشن پر اثر انداز ہونے کے الزامات زندہ ہو گئے
نریندر مودی کی مسلسل کئی سال سے چل رہی حکومت پر مسلسل یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ ریاست کے اداروں خصوصاً الیکشن کمیشن اور سی بی آئی جیسے مستحکم ساکھ والے اداروں کو آلودہ کر کے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے لئے قوانین کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔ راہل گاندھی اور اور اب شرد پوار کے الیکشن کمیشن کے ووٹ چوری میں ملوث ہونے کے الزامات سامنے آنے کے بعد یہ بحث پھر سے شروع ہو گئی ہے کہ بی جے پی کی طویل حکومت میں الیکشن کمیشن کو آلودہ کیا گیا ہے۔
مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ کا ردعمل
2024 کے الیکشن میں اقلیت ہونے کے باوجود جوڑ توڑ کر کے وزیر اعلیٰ بن جانےوالے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے پوار کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ پوار نے راہل گاندھی کے الزامات اور انتخابی عمل کی سالمیت پر اصرار کرنے کے بعد ہی کیوں بات کی؟
شرد پوار کی بھتیجے اجیت پوار کے ساتھ اتحاد کرنے کے امکان کی تردید
آج کی نیوزکانفرنس میں ہی یہ سوالات بھی آئے کہ کیا شرد پوار مہاراشٹر میں اپنے بھتیجے اجیت پوار کے ساتھ اتحاد کی طرف جا رہے ہیں؛ ان سوالات کے جواب مین شرد پوار نے سختی سے "نہ" کہا۔ پوار نے کہا وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد میں شامل ہونے والے اپنے بھتیجے کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے۔ یہ دلچسپ امر ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے مہاراشٹر اسمبلی الیکشن میں دو علاقائی پارٹیوں سے الگ ہونے والے دھڑوں کو الیکشن میں "غیر معمولی" ووٹ ملنے کے بعد ان کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت بنائی۔ ان میں سے ایک شرد پوار کی پارٹی سے ٹوٹے ان کے بھتیجے اجیت پوار کی پارٹی تھی دوسرے بال ٹھاکرے کے بھتیجے اجے ٹھاکرے کی پارٹی سے ٹوٹے ہوئے ارکان اسمبلی پر مشتمل دھڑا۔