ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

شام پر ترکیہ کا قبضہ ہے اور اردوان ٹرمپ کا دوست ہے

انہوں نے وہ کام کر دکھایا جو 2000 سال میں کوئی نہ کرسکا: نیتن یاہو کے سامنے ٹرمپ کی اردوان کی تعریف کرتے ہوئے یہ بھی بتا دیا کہ شام پر اس وقت دراصل ترکیہ کا کنٹرول ہے

USA and Turkey, Syrian revolt, city42, USA Israel relations, Netanyahu, White House press briefing,
کیپشن: سدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں کے سامنے انکشاف کیا کہ انہوں نے اردوان کو ""شام پر قبض کرنے کی مبارک باد دی، اور ان سے کہا کہ آپ نے یہ کیا ہے تو کوئی بات نہیں۔ شام مین چند ماہ پہلے پراسرار بغاوت کے تیزی سے کامیاب ہو جانے کے بعد سے یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکہ کے صدر نے کھلم کھلا ترکی کو اپنے پراکسیز کے ذریعہ شام پر قبضہ کرنے کی مبارک دینے کا انشاف کیا۔ ہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سانس میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کو اپنا بہترین دوست قرار دیا اور دوسری سانس میں اردوان پر شام پر قبضہ کرنے کا لیبل لگا دیا۔  اردو زبان کا محاورہ  "ہوئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو" غالباً ایسے ہی کسی وقت کو ڈسکرائب کرتا ہے۔
واشنگٹن میں امریکہ کے صدر کے دفتر وائت ہاؤس میں  منگل کے روز اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مہمان اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کو  میڈیا کے بہت سے نمائندوں کے سامنے یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ شام کے متعلق ترکیہ کے صدر اردوان سے اسرائیل کی کوئی فرمائش منوا سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے سامنے پہلے  رجب طیب اردوان کی تعریف کی پھر یہ کہا کہ شام پر اردوان کا قبضہ ہے اور وہ ٹرمپ کی سفارش پر اسرائیل کے پرائم منسٹر کی فرمائش مان لیں گے۔

وائت ہاؤس کی رسمی پریس بریفنگ میں ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا تھا , "ترکیہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ شام میں صورتحال معمول پر لائے گا، اسرائیل نہیں چاہتا کہ ترکیہ شام پر اثر انداز ہو؛  آپ کیا سمجھتے ہیں، کیا ترکیہ کا شام پر اثر و رسوخ اسے بہتر اور زیادہ پُرامن بنا سکتا ہے یا اس کے برعکس ہوگا۔"

اس سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے  ترک صدر کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں، مجھے اردوان پسند ہیں اور اردوان بھی مجھے پسند کرتے ہیں۔ ’میں جانتا ہوں کہ میڈیا کو یہ سن کر بہت غصہ آئے گا کہ 'اوہ، یہ اردوان کو پسند کرتا ہے'، لیکن میں واقعی انہیں پسند کرتا ہوں اور وہ مجھے پسند کرتے ہیں‘۔

ٹرمپ نے مزید کہا، ’ہمارے درمیان کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا، ہم بہت سے مراحل سے گزرے ہیں، مگر کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ ’میں نے  بی بی (نیتن یاہو) سے کہا ہے کہ  اگر آپ کو ترکیہ سے کوئی مسئلہ ہے، تو مجھے واقعی لگتا ہے کہ میں اسے حل کر سکتا ہوں۔' ’میرے ترکیہ اور اُن کے رہنما کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم یہ معاملہ حل کر لیں گے‘۔

 ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے انہیں (اردوان کو) کہا کہ 'مبارک ہو، آپ نے وہ کام کر دکھایا ہے جو 2000 سال میں کوئی نہیں کرسکا، آپ نے شام پر قبضہ کر لیا، مختلف نام کے ساتھ ہی صحیح، لیکن حقیقت یہی  ہے‘۔

ٹرمپ نے بتایا کہ (شام کے حالیہ ری وولٹ میں ملوث ہونے کے متعلق) اردوان نے ان سے کہا کہ 'نہیں، نہیں، نہیں، یہ میں نہیں تھا‘ لیکن ٹرمپ نے ان سے کہا کہ 'یہ آپ ہی تھے لیکن کوئی بات نہیں!‘۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ  ’دیکھیں وہ (اردوان) بہت مضبوط انسان ہیں اور وہ بہت ذہین ہیں، انہوں نے وہ کام کیا ہے جو کوئی نہیں کر سکا، اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا‘۔

آخر میں ٹرمپ نے دوبارہ اسرائیلی وزیر اعظم سے کہا کہ اگر آپ کو ترکیہ سے کوئی مسئلہ ہے، تو میرا خیال ہے کہ میں اسے حل کر سکتا ہوں، تب  تک آپ معقول رہیں گے۔ آپ کو معقول رہنا پڑے گا، اور ہمیں بھی معقول ہونا ہوگا۔