سٹی42: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے جس سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کے عہدے کیلئے نامزد کرنے کا بتایا جا رہا ہے وہ اتنے قابل نہیں، صوبہ ان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے دیکھتے ہیں وہ فیصلے بدلتے بھی رہتے ہیں، علی امین کا استعفیٰ آیا تو اسے آئین اور قانون کے مطابق دیکھیں گے۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جو آئین کہتا ہے اس کے مطابق عمل کریں گے۔ ابھی تک وزیراعلیٰ کا استعفیٰ نہیں آیا، علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ آیا تو اسے آئین اور قانون کے مطابق دیکھیں گے۔
استعفیٰ ملا تو تمام قانونی اور آئینی نکات کو دیکھ کر دستخط کروں گا۔ اگر استعفے میں کوئی غلطی ہوئی تو واپس بھیجوں گا، استعفیٰ قبول کیا تو پھر آئین اور قانون کے مطابق اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہاوزیراعلیٰ تو پہلے ہی عہدے سے ہٹ جاتے لیکن اڈیالہ جیل میں ملاقات کیے بغیر واپس آتے تھے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا میں نے کہہ دیا تھا کہ پی ٹی آئی میں میر جعفر میرصادق موجود ہیں، انھیں (علی امین گنڈاپور کو) دیر سے پتہ چلا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ علی امین گنڈاپور دو کشتیوں کے سوار تھے، کبھی کہتے ریاست کے ساتھ ہیں کبھی کہتے تھے دہشت گردوں کے ساتھ ہیں۔
پی ٹی آئی کے بانی چئیرمین کے سہیل آفریدی کو خیبر پختونخوا کا وزیر اعلی کا امیدوار نامزد کرنے کے حکم کے متعلق گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا، پی ٹی آئی کے نئے نامزد وزیر اعلیٰ بھی اتنے قابل نہیں، صوبہ ان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انھوں نے کہا پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے دیکھتے ہیں وہ فیصلے بدلتے بھی رہتے ہیں۔ اپنے لائحہ عمل کے متعلق فیصل کرین کنڈی نے واضح کیا کہ وہ آئین کی پیروی کریں گے، جو آئین کہتا ہے اس کے مطابق اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے۔
گورنرفیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس بھی اچھی تعداد ہے، دیکھتے ہیں وہ کیا کرتی ہے، کل تک وزیر اعلیٰ اپنے وزیروں و مشیروں کو کرپشن پر نکال رہے تھے، آج وزیراعلی علی امین خود نکالے گئے۔