ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہائیکورٹ ملتان بینچ میں سپریم کورٹ کیلئے ویڈیو لنک کی سہولت نہ ہونے پر وکلاء کا احتجاج

ہائیکورٹ ملتان بینچ میں سپریم کورٹ کیلئے ویڈیو لنک کی سہولت نہ ہونے پر وکلاء کا احتجاج
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ میں سپریم کورٹ کے لیے ویڈیو لنک سہولت نہ ہونے پر چند وکلاء نے احاطہ ہائیکورٹ میں غیر ضروری احتجاج کیا،  تاہم چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے معاملہ بردباری، تحمل اور بہترین انتظامی بصیرت کے ساتھ حل کر دیا۔

ملتان  سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ سید ریاض الحسن گیلانی کی سربراہی میں کچھ وکلاء نے احاطہ   لاہور ہائیکورٹ میں  احتجاج کیا اور دھرنا دیا اور لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بھی کیا، جو عدالت کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی تھی،جس سے عدالتی ماحول میں بے ترتیبی پیدا ہوئی۔احتجاج میں سابق صدر ملتان بار ملک محبوب علی سندھیلا، احد عارف گوندل، عرفان کھوکھر، میاں ارشد وقاص سمیت محدود تعداد میں وکلاء شریک ہوئے۔احتجاجی وکلاء نے مؤقف اپنایا کہ ملتان بنچ میں سپریم کورٹ کیسز کے لیے ویڈیو لنک سہولت فراہم کی جائے، تاہم لاہور ہائیکورٹ کے سنئیر وکلاء کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ انتظامی نوعیت کا ہے جس کے لیے احتجاج کی بجائے مناسب فورم سے رجوع کیا جانا چاہیے تھا۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے تحمل کے ساتھ معاملے کا نوٹس لیا اور وکلاء کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق چیف جسٹس نے وکلاء کو یقین دہانی کرائی کہ عدالتی نظم اور سہولتوں میں بہتری کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے، مگر عدالت کے وقار کے خلاف طرزِ عمل کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔چیف جسٹس سے ملاقات کے بعد وکلاء نے دو گھنٹے طویل دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ذرائع کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلم نے واضح کیا کہ عدالت کا وقار سب سے مقدم ہے اور کوئی بھی معاملہ احتجاج یا دباؤ سے نہیں بلکہ آئینی طریقۂ کار سے حل کیا جا سکتا ہے۔احتجاج کے دوران ڈی آئی جی سیکیورٹی اویس ملک فوری  موقع پر پہنچے اور لاؤڈ اسپیکر کے غیر قانونی استعمال پر وکلاء کو متنبہ کیا۔ ڈی آئی جی سیکیورٹی  نے پولیس کی اضافی نفری تعینات کر کے حالات پر مکمل کنٹرول رکھا۔قانونی ماہرین کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلم کی بروقت مداخلت نے نہ صرف ایک ممکنہ تنازع کو ٹالا بلکہ عدالتی وقار کو برقرار رکھتے ہوئے وکلاء کو آئینی حدود میں رہنے کا پیغام بھی دیا۔

Ansa Awais

Content Writer