ملک اشرف : چوری کی ملزمہ کی دورانِ سماعت ویڈیو بنانے پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم کا اظہار ناراضگی ، عدالت میں موبائل لے جانے پر پابندی کا عندیہ دے دیا ۔
لاہورہائیکورٹ میں چوری کی ایک ملزمہ کی جانب سےعدالتی کارروائی کی موبائل ویڈیو بنانے کا معاملہ سامنے آنے پرچیف جسٹس عالیہ نیلم نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے آر پی اوگوجرانوالہ طیب حفیظ چیمہ کو ہدایت کی کہ وہ ملزمہ کے شناختی کارڈ کے کوائف کی تصدیق کرکے کل رپورٹ پیش کریں۔ آرپی او گوجرانوالہ طیب حفیظ چیمہ نے ملزمہ رومیلہ کو پیش کیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کورٹ رومز میں موبائل سے ویڈیوبناکر سوشل میڈیا پر وائرل کی جارہی ہیں۔ چیف جسٹس نے ملزمہ سے پوچھا، آپ کا نام کیا ہے؟ ملزمہ نے بتایا، میرا نام رومیلہ ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا، آپ کا شناختی کارڈ کہاں ہے؟ ملزمہ نے شناختی کارڈ پیش کیا تو چیف جسٹس نےکہا کہ اس پرمستقل پتہ کراچی اورعارضی پتہ گوجرانوالہ کا ہے، جبکہ کارڈ کی چپ بھی نکلی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا، اگر آپکو طلاق ہوچکی ہے تو شناختی کارڈ کو اپ ڈیٹ کیوں نہیں کروایا؟ کیا آپ سسٹم کو دھوکا دے رہی ہیں؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےکہ ویڈیو بناکرعدالتوں کا مذاق اُڑایا جارہا ہے،اب آرڈرکریں گے کہ کوئی شخص موبائل لیکر کورٹ روم میں داخل نہ ہو۔ ملزمہ رومیلہ نے غیرمشروط معافی کی استدعا کرتے ہوئے کہا، وہ سوری کرتی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا، سوری کا وقت گزرچکا ہے، اسی’’سوری‘‘ کی وجہ سے ہمارے حالات یہاں تک پہنچے ہیں۔ عدالت نے آر پی اوکو ہدایت دی کہ وہ ملزمہ کے شناختی کارڈ کی تصدیق کرکے کل رپورٹ پیش کریں۔