ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نائب وزیراعلیٰ کے بیٹےکی ٹیکس چوری کا راز افشا، 21 کروڑ روپے سٹیمپ ڈیوٹی ادا کرنا پڑ گئی

Stamp Duty, Ajit Pawar, Maharashtra state, City42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  زمین کی خریداری میں نائب وزیراعلیٰ کے قریبی عزیزکی ٹیکس چوری کا راز افشا ہو گیا، 21 کروڑ روپے سٹیمپ ڈیوٹی ادا کرنا پڑ گئی۔

پڑوسی ملک کی ریاست مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحادی نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کے بیٹے کی کمپنی کو 21 کروڑ روپے (بھارتی کرنسی) سٹیمپ ڈیوٹی بھرنا پڑ گئی۔ پونے شہر میں زمین کی خریداری کےمعاملے میں وزیراعلیٰ کے بیٹے پارتھ پوار  کی کمپنی  بری پھنسی ہے۔ انڈین میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پارتھ پوار کی کمپنی کواب بھرنی ہوگی 21 کروڑ روپے کی اسٹامپ ڈیوٹی۔
امادیا انٹرپرائزیز میں نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے بیٹے پارتھ پوار بھی پارٹنر ہیں۔ کمپنی نے ایک زمین خریدی اور بعد مین کینسیلیشن ڈیڈ دے دی۔ یہ کینسلیشن ڈیڈ اس لیے دی کیونکہ وہ جس ڈاٹا سنٹر پروجیکٹ کے لیے یہ زمین خرید رہی تھی، وہ پروجیکٹ اب ختم ہو گیا ہے۔
پونے ہاویلی IV کے نائب رجسٹرار (کلاس II) اے پی پھلوارے نے جمعہ کے روز امادیا انٹرپرائزیز ایل ایل پی کو نوٹس بھیجا ہے۔ اس میں فرم کے پارٹنر دگوجے پاٹل سے کہا گیا ہے کہ وہ 21 کروڑ روپے کی پوری سٹیمپ ڈیوٹی اور نافذ جرمانہ بھریں۔ اس کے بعد ہی کمپنی اپنی کینسلیشن ڈیڈ دوبارہ جمع کروا سکے گی۔
امادیا انٹرپرائزیز میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے بیٹے پارتھ پوار  پارٹنر ہیں۔ کمپنی نے یہ کینسیلیشن ڈیڈ اس لیے دی کیونکہ وہ جس ڈیٹا سینٹر پروجیکٹ کے لیے یہ زمین خرید رہی تھی، وہ پروجیکٹ اب رد کر دیا گیا ہے۔ 20 مئی 2025 کو 40 ایکڑ زمین فروخت کا معاہدہ شیتل تیجوانی (زمین کا پاور آف اٹارنی ہولڈر) اور دگوجئے پاٹل کے درمیان ہوا  تھا۔ اس معاہدہ کے مطابق زمین  کی قیمت 300 کروڑ روپئے تھی اور اس معاہدہ کو  ہاویلی IV سب رجسٹرار دفتر میں درج کیا گیا تھا۔ کمپنی نے اس وقت حکومت کی 1 فروری 2024 کی نوٹیفیکیشن کے تحت سٹیمپ ڈیوٹی میں چھوٹ لی تھی، جو ڈیٹا سینٹر اور آئی ٹی انفراسٹرکچر پروجیکٹس کو ملتی ہے۔ لیکن اب جب کمپنی نے خود ہی وہ پروجیکٹ چھوڑ دیا ہے تو وہ سٹیمپ ڈیوٹی کی چھوٹ نافذ نہیں رہ جاتی۔
ریاست  اتر پردیش کے رجسٹریشن محکمہ (آئی جی آر) کے ایک سینئر فاسر نے کہا کہ ’’جب وہ مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے جس کے لیے چھوٹ دی گئی تھی تو پوری ڈیوٹی اور پنالٹی دینی ہوتی ہے۔‘‘ سرکاری خط میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کو 7 فیصد سٹامپ ڈیوٹی دینی ہوگی، جس میں 5 فیصد اصل ڈیوٹی، ایک فیصد لوکل انسٹی ٹیوشن ٹیکس اور ایک فیصد میٹر ٹیکس شامل ہے۔ یہ رقم زمین کی 300 کروڑ روپے قیمت پر تقریباً 21 کروڑ روپے ہوتی ہے۔
افسران کے مطابق کمپنی نے جمعہ کو جو کینسلیشن ڈیڈ جمع کی تھی اس پر صرف 500 روپے کی سٹامپ ڈیوٹی دی گئی تھی۔ اسے صحیح طرح سے سٹامپ نہیں کی جانے والی دستاویز مانا گیا۔ اب فرم کو سبھی خامیاں دور کر  کے پوری فیس اور پنالٹی بھر کر دستاویز پھر سے جمع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔