ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں سرمایہ کاروں نے ممکنہ سپلائی خدشات کے پیشِ نظر خام تیل کی خریداری میں اضافہ کر دیا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 3.4 فیصد اضافے کے بعد 96.50 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 3 فیصد بڑھ کر 93.75 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ ہوتا رہا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تناؤ نے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں کے حوالے سے سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں صورتحال مزید خراب ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جس کے اثرات ایندھن، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔