ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بنگلہ دیش: اپوزیشن جماعت بی این پی کے اہم رہنما  فائرنگ سے جاں بحق

بنگلہ دیش: اپوزیشن جماعت بی این پی کے اہم رہنما  فائرنگ سے جاں بحق
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سے وابستہ رہنما عزیز الرحمان فائرنگ کے ایک واقعے میں جاں بحق ہو گئے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

پولیس کے مطابق عزیز الرحمان مسبیر، جو بی این پی کی رضاکار تنظیم جتیاتابادی سوییچچھاسبک دل کی ڈھاکا نارتھ یونٹ کے سابق جنرل سیکریٹری تھے، بدھ کی شب وسطی ڈھاکا کے علاقے بشندھرا سٹی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

اسی واقعے میں ایک اور شخص، سفیان بیپاری مسعود، جو مقامی لیبر یونین کے رہنما ہیں، زخمی ہو گئے۔ انہیں گولی لگنے کے بعد ڈھاکا میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

واقعے کے بعد بی این پی کے کارکنان نے کاروان بازار کے علاقے میں احتجاج کیا اور کچھ دیر کے لیے سڑکیں بند کر دیں۔ مظاہرین نے واقعے کی غیرجانبدار اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے، جبکہ ملزمان کی شناخت کے لیے قریبی علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاحال حملے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں۔

بی این پی رہنماؤں کے مطابق عزیز الرحمان فائرنگ سے کچھ دیر قبل پارٹی کے ایک اجلاس میں شریک تھے۔ پارٹی قیادت نے واقعے کو منصوبہ بند اور ٹارگٹڈ حملہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ واقعہ ملک میں عام انتخابات سے قبل سیاسی صورتحال کے ایک نازک مرحلے پر پیش آیا ہے، جہاں ماضی میں بھی اپوزیشن سرگرمیوں کے دوران جھڑپیں اور ٹارگٹڈ تشدد کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔