ویب ڈیسک:ایران میں 11 شوہروں کو زہریلا مواد دے کر قتل کرنے کی ملزمہ کے خلاف عدالتی کارروائی مکمل ہو گئی ہے، عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا جبکہ خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق، تقریباً 50 سالہ اس خاتون پر 2001 سے 2023 کے دوران 11 قتل اور ایک اقدامِ قتل کا الزام عائد ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، وہ اپنے شوہروں کو مختلف ادویات کھلا کر کمزور کرتی اور پھر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتی۔ بعض مواقع پر انہوں نے منشیات پلانے کے بعد دم گھونٹ کر بھی قتل کیا۔ ہر قتل کے بعد وہ متاثرہ کے ترکے یا مالی معاہدوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی۔
یہ کیس اس وقت منظر عام پر آیا جب 2023 میں عزیزاللہ بابائی نامی ایک بزرگ شخص کی مشکوک موت کے بعد ان کے اہل خانہ نے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ مزید شواہد اس وقت ملے جب ایک اور شخص نے بتایا کہ اسی خاتون نے انہیں بھی زہریلا مشروب پلانے کی کوشش کی تھی، مگر وہ بچ نکلے اور طلاق لے لی۔
پولیس تحقیقات کے بعد خاتون کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئی، جہاں انہوں نے ابتدائی تفتیش میں جرائم کا اعتراف کیا، لیکن عدالت میں الزامات سے انکار کر دیا۔ تاہم، جب عدالت میں ان کے جرائم کی ویڈیو پیش کی گئی تو انہوں نے اعتراف کی تصدیق کی، مگر تفصیلات کو کم اہمیت دینے کی کوشش کی۔
مقدمے میں 45 سے زائد مدعیان شریک ہیں، جن میں چار متاثرہ خاندان سزائے موت کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ملزمہ کے وکیل نے ذہنی صحت کے معائنے کی درخواست دی، لیکن متاثرہ خاندانوں نے اسے مسترد کر دیا۔ عدالت آئندہ دنوں میں فیصلہ سنائے گی۔