ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 14سال کی بچی کو  گھریلو ملازمہ بنا کر ریپ کرتے رہے، 4 افرادکیخلاف مقدمہ

crimes against women, violence against women, torture victims, pushtoon society, Pushto film industry, city42 ,Tandalyanwala rape case, child abuse, underage labor ,
کیپشن: File Photo پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز سختی کے ساتھ تمام جنسی جرائم اور عورتوں خصوصاً بچیوں کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے وائلنس کے خاتمہ کے لئے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائے ہوئے ہیں لیکن پنجاب میں عورتوں خصوصاً بچیوں کے خلاف جرائم تھمنے میں نہیں آ رہے، پولیس کے مقامی اہلکاروں کا ان جرائم کی انویسٹی گیشن اور مقدمات کی پروسیسنگ میں رویہ ملزموں کو فائدہ پہنچانے والا ہوتا ہے۔  جو اب بھی برقرار ہے۔  اس کیس میں بھی ملزم گرفتار نہیں کئے گئے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   14 سال کی بچی کو گھریلو ملازمہ  بنا کر اپنے گھر پر رکھا اور پھر اس کو ریپ کر ڈالا۔ بچی کے ریپ کا سلسلہ تین ماہ تک جاری رہا۔  گینگ ریپ میں ملوث پر 4 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق تاندلیانوالہ کے علاقے کی رہائشی 14 سال عمر کی بچی گزشتہ تین ماہ سے ایک گھر میں  15 ہزار روپے پر ملازمہ تھی۔ اس بچی کو ملازم رکھنے والے اسے اپنے گھر مین ہی رکھتے تھے۔ اب بچی نے انکشاف کیا کہ گھر کا مالک اپنی بیوی کے ساتھ مل کر اسے نشہ آور چیز کھلا تا  تھا اور نشے میں مدہوش کر کے  اسے ریپ کرتا رہا۔

بچی کو سنگین جنسی جرم کا  نشانہ  بنانے کا سلسلہ کئی ماہ جاری رہاْ ۔

 پولیس نے متاثرہ بچی کے ماموں کی درخواست پر میاں بیوی اور متاثرہ بچی  کو ملازمت کے لیے ان کے پاس لانے والی عورت اور ایک مزید ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

پولیس کے مطابق متاثرہ بچی کا میڈیکل کرایا جارہا ہے ۔

پولیس نے اب تک کسی ایک بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا۔ 

اطلاع ہے کہ ملزم روپوش ہو گئے ہیں اور ان کے مدد گار پولیس پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔