ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تیل کی عالمی قیمتوں میں پھر اضافہ  ہوگیا

تیل کی عالمی قیمتوں میں پھر اضافہ  ہوگیا
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( ویب ڈیسک )امریکا اور ایران کے درمیان تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے بعد مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں طویل رکاوٹ کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا۔

 رپورٹ کے مطابق پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت میں 52 سینٹ، یعنی 0.54 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 96.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 66 سینٹ اضافے کے بعد 92.14 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

 گزشتہ ہفتے بھی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، برینٹ خام تیل تقریباً 7.8 فیصد جبکہ WTI کی قیمت تقریباً 10 فیصد بڑھی تھی، یہ اضافہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں کمی کے باعث ہوا۔

 امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے ہفتے کے روز تین ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں سے ایک کو ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارک کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

 دوسری جانب ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کی بحریہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستوں سے گزرنے والے تین تیل بردار جہازوں اور دیگر علاقوں میں موجود تین امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔

 سمندری انٹیلی جنس فرم مارِسک کے مطابق ہفتے کے حملے بحری تنازع میں ایک بڑی شدت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ فرم نے خبردار کیا کہ تجارتی تیل بردار جہازوں کو اب فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 روز کے دوران اوسطاً روزانہ صرف 10 مال بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو مئی کے بعد سے کم ترین سطح ہے۔

 ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے باہر ایک محدود زون قائم کرنے کا اعلان بھی متوقع ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

 ادھر OPEC+ نے اکتوبر کے لیے تیل کی پیداوار سے متعلق موجودہ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، تنظیم کے مطابق مستقبل میں پیداوار میں تبدیلی سے قبل نئے پیداواری کوٹے پر اتفاق ضروری ہوگا۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی اور محدود فوجی کارروائیاں مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی کی بحالی کو مزید مؤخر کرسکتی ہیں۔ اندازہ ہے کہ خطے سے تیل کی برآمدات 2026 کے اختتام تک محدود رہ سکتی ہیں جبکہ جنگ سے پہلے کی سطح پر مکمل بحالی 2027 کی پہلی سہ ماہی کے اختتام یا دوسری سہ ماہی کے آغاز تک متوقع نہیں۔

 یعنی اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی تیل کی سپلائی، قیمتوں اور توانائی کی مارکیٹ پر اس کے اثرات مزید شدید ہونے کا خدشہ ہے۔