ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کھانسی کے سیرپ سے بچوں کی اموات؛ حکومت کو بھی ہوش آگیا

کھانسی کے سیرپ سے بچوں کی اموات؛ حکومت کو بھی ہوش آگیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : مدھیہ پردیش اور راجستھان میں کھانسی کے  سیرپ کے باعث بچوں کی  اموات  کے بعد اتراکھنڈ حکومت  کو بھی ہوش آگیا

وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی اور وزیر صحت دھن سنگھ راوت نے ایکشن لیا تو  ایف ڈی اے نے پوری ریاست میں پابندی شدہ اور مشکوک کھانسی کے  سیرپ پر کارروائی  شروع کی ۔ریاست میں بچوں کی صحت کی حفاظت کے لیے فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ممنوعہ سیرپ کی فروخت اور تقسیم کے خلاف مہم شروع کر دی ہے۔ ریاست میں کئی جگہ چھاپے  مارے گئے ۔ 63 کف سیرپ کے نمونے دہرادون میں موجود ایک  لیباریٹری  میں بھیجے گئے ہیں۔ لیباریٹری کو 15 روز کے اندر جانچ رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے تاکہ جلد از جلد  کھانسی کے سیرپ کے حوالے سے معلومات حاصل کی جاسکے ۔
ایف ڈی اے کے ایڈیشنل کمشنر اور ڈرگ کنڑولر تاج محل سنگھ جگی نے بتایا کہ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں کھانسی کے سیرپ کے استعمال سے بچوں کے بیمار ہونے اور اموات کے واقعات کے بعد ریاستی حکومت کی ہدایت پر مہم چلائی گئی۔ تمام اضلاع میں اب تک 63 کف سیرپ کے نمونے جانچ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ ڈرگ کنٹرولر افسران کو سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ سی ایف ٹی او ،میڈیکل اسٹور ہول سیلرز اور ہسپتالوں کے میڈیکل اسٹور سے ممنوعہ کھانسی کے سیرپ  کے نمونے جمع کر جانچ کے لیے لیبارٹری میں  بھیجے جائیں۔
ادویات بنانے والی کمپنیوں سے بھی خام مال جیسے پولی تھیلین گلائیکول سوربیٹول اور کیمیائی عناصر کے سیمپل لے کر معیار کی جانچ کی جا رہی ہے۔ جس سے پیداوار کی سطح پر بھی کسی قسم کی کمی یا بے ضابطگی کا امکان نہ رہے۔ ایڈیشنل کمشنر نے لوگوں سے گزارش کی ہے کہ بغیر ڈاکٹر کے مشورہ کے بچوں کو کوئی بھی کف سیرپ یا دوا نہ دیں۔ اگر سردی میں کھانسی یا بخار جیسی علامت ظاہر ہو تو صرف مستند ڈاکٹر سے مشورہ لے کر ہی دوا دیں۔ اس کے علاو گھروں میں پہلے سے استعمال شدہ کف سیرپ یا کسی بھی قسم کی دوا بچوں کو بالکل بھی نہ دیں۔ کئی بار پرانی یا کھلی ادویات اپنی تاثیر کھو دیتی ہیں یا ان کی صلاحیت کم ہو جاتی ہیں، جو بچوں کے لیے نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب مدھیہ پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت راجیندر شکلا نے بتایا کہ  ریاست میں غیر معیاری  مزید 2 کف سیرپ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ چھندواڑا میں بچوں کی موت کے معاملے میں حکومت نے سخت کارروائی کی ہے۔

 واضح رہے کہ چھندواڑا میں کف سیرپ سے ہوئی بچوں کی موت کے معاملے کو ریاستی حکومت نے سنجیدگی سے لیا ہے اور اس معاملے میں سخت کارروائی بھی کی گئی ہے۔ شروعات میں ایک کف سیرپ ’کولڈرف‘ پر پابندی عائد کی تھی اور اب 2 دیگر کف سیرپ پر بھی ریاست میں پابندی عائد کر دی گئی ہے۔