ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

صنم جاوید کے مبینہ اغوا کے مقدمہ کی تفتیش میں حیرت ناک پیش رفت

Sanam Javid kidnapped, Peshawar Police,
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پشاور پولیس نے  پی ٹی آئی کی مفرور کارکن صنم جاوید کے اغوا کا مقدمہ درج کرنے کے بعد مبینہ اغوا کی "تفتیش" غیر معمولی رفتار سے کرنا شروع کر دی۔ چند گھنٹوں میں تمام "گواہوں کے بیان ریکارڈ کر لئے۔

پولیس نے حیرت انگیز  رفتار کے ساتھ تفتیش شروع کی اور مبینہ اغوا کے مبینہ گواہوں کے بیانات قلم بند کر لئے۔

 اب پولیس کو سی سی ٹی وی کی فوٹیج چاہئے جس پر آ کر تفتیش رک گئی ہے۔ اب تک یہ سامنے نہیں آیا کہ اس مبینہ واقعہ کی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود بھی ہے یا نہیں۔
  پشاور میں پولیس نے پی ٹی آئی کی خاتون کارکن صنم جاوید کے مبینہ اغوا سے متعلق تفتیش شروع کردی۔ 

تفتیشی ٹیم نے مبینہ اغوا کے واقعے کی جگہ کا ملاحظہ کیا اور سول آفیسرز میس کے گیٹ پر تعینات اپنے اہلکاروں اور ایف آئی آر میں بننے والی صنم جاوید کی دوست خاتون وکیل کے بیانات قلم بند کر لئے۔ 

پشاور پولیس کی تفتیشی ٹیم کے مطابق صنم جاوید کے آج  آفیسرز میس کے سامنے مبینہ اغوا کے واقعے سے متعلق وہاں موجود پولیس اہلکاروں سے تفتیش کی گئی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے حصول کے لیے متعلقہ ادارے سے درخواست کی گئی ہے۔ 

پشاور پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج مل گئی تو تفتیش میں پیش رفت کا امکان ہے۔ 

 لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت سے دو مقدمات میں سزا یافتہ پی ٹی آئی کی کارکن صنم جاوید  کو عدالت نے مفرور قرار دے رکھا ہے۔اس کے بارے میں قیاس آڑائیاں کی جا رہی تھیں کہ وہ پشاور میں روپوش تھی، آج صنم جاوید کے  مبینہ اغوا کا مقدمہ درج  ہوا تو یہ بات سامنے آئی کہ صنم جاوید  واقعی پشاور میں روپوش تھی۔ 

صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ صنم جاوید کی دوست خاتون وکیل کی مدعیت میں تھانہ شرقی پشاورمیں درج کیاگیا۔ 

درخواست کے مطابق صنم جاوید کو پشاور کی مصروف شاہراہ پر روکا گیا اور 5 افراد انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے۔

تفتیشی ٹیم نے مقدمہ درج کرنے والی صنم جاوید کی خاتون دوست کا بیان بھی قلمبند کیا۔ 

 وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ترجمان فراز مغل نے اعتراف کیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صنم جاوید کے مبینہ اغوا کی ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات دیئے تھے۔ ایف آئی آر ایڈووکیٹ حِرا بابر کی مدعیت میں تھانا شرقی پشاور میں درج کی گئی۔ 

ترجمان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

صنم جاوید پنجاب پولیس کو مطلوب

صنم جاوید کو   9 ئی 2023 کو لاہور میں گھیراؤ جلاؤ اور سرکاری اداروں کے اہلکاروں پر تشدد، سرکاری تنصیبات کو نقصٓن پہنچانے  کے واقعات میں ملوث ہونے کی وجہ سے دو مقدمات مین پانچ پانچ سال قید کی سزائیں ہوئیں تو وہ روپوش ہو گئیں۔ اس سے پہلے صنم جاوید 10 مئی 2023 کو لاہور میں گرفتار ہو گئی تھیں۔ بعد میں ان کی ضمانتین ہو گئیں اور  وہ لاہور میں اپنے گھر مین رہتی رہیں، جب نو مئی کے مقدمات کے فیصلہ کا وقت قریب آیا تو وہ روپوش ہو گئی تھیں۔ مقدمات میں سزائیں ان کی غیر موجودگی میں سنائی گئیں۔ اب پنجاب پولیس ان کو تلاش کر رہی ہے۔ صنم جاوید کی بہن فلک جاوید کو پلویس نے گزشتہ دنوں اچھرہ کے علاقہ سے گرفتار کیا، وہ بھی نو مئی کے کئی مقدمات میں مفرور تھیں۔ فلک جاوید  اس وقت پولیس کی تفتیش سے گزر رہی ہیں۔