ویب ڈیسک : الیکشن کمیشن نے قومی شناختی کارڈز پر موجود ادھورے ایڈریسز مکمل کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ شناختی دستاویزات کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت کو تجویز دی ہے کہ گاؤں دیہات کی سطح پر گلیوں اور گھروں کو بھی نمبر الاٹ کئے جائیں، نئے اور پرانے شناختی کارڈز پر پتے درست کیے جائیں، دیہاتوں میں بستیوں کی گلیوں اور مکانات کو بھی نمبر الاٹ کیے جائیں۔
اعلامیے کے مطابق ووٹر لسٹوں اورپولنگ اسٹیشنز کے قیام میں مسائل پیدا ہوتے ہیں، گلی یا گھر نمبر موجود نہ ہونے کی وجہ سے تصدیق کا عمل مشکل ہو جاتا ہے، نامکمل ایڈریس سےووٹرز کی درست طور پر نشاندہی نہیں ہو پاتی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے سے 6 ماہ قبل مردم شماری ہو تو حلقہ بندیاں نہیں ہونی چاہییں، الیکشن میں تاخیر سے بچنے کےلئے حلقہ بندیاں الیکشن کے بعد ہوں گی، انتخابات سے قبل ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے دوران عملے کی بھرتی بھی ایک بڑا چیلنج رہی، ووٹرز رجسٹریشن تصدیق میں شامل سٹاف کو الیکشن آفیشل ڈیکلیئر کیا جائے۔ غلطی کی صورت ميں ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی۔