(ویب ڈیسک) امریکا کے معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق ایران کی جانب سے کئے گئے حملوں نے مشرق وسطیٰ میں 228امریکی فوجی ٹھکانوں کو نقصان پہنچایا، اور یہ تعداد امریکی ڈیٹا میں بتائی گئی تعدادکے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے،سٹیلائٹ تصاویر سےپتہ چلا کہ بحرین اور کویت سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں نے مشرق وسطیٰ میں228امریکی فوجی ٹھکانوں کو نقصان پہنچایا ہے، جو کہ امریکی اہلکاروں کی جانب سے تسلیم کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ بحرین اور کویت سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔15 امریکی اڈوں پر228ڈھانچے اور آلات کو نقصان پہنچا، جن میں217 عمارتیں اور 11 فوجی اثاثے شامل ہیں۔ نصف سے زیادہ نقصان بحرین میں پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور کویت کے تین اڈوں پر ہوا۔ان حملوں میں بحرین اور کویت میں پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام، بحرین میں نیول سپورٹ ایکٹیویٹی کا سیٹلائٹ ڈش، اور اردن اور متحدہ عرب امارات میں تھاڈ ریڈار سسٹم تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر ایک ای3 سینٹری طیارہ بھی تباہ کیا گیا۔نیول سپورٹ ایکٹیویٹی کو اتنا زیادہ نقصان پہنچا کہ پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر فلوریڈا منتقل کرنا پڑا۔جبکہ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ شاید اب اتنی بڑی تعداد میں فوجی کبھی نہیں لوٹ پائیں گے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر دوران مذاکرات اچانک حملہ کردیا، اس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت بڑے پیمانے پر فوجی اور دیگر افسران کی شہادت ہوئی تھی، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ چونکہ امریکہ نے ایران پر حملے کیلئے خلیجی ممالک میں واقع اپنے فوجی اڈوں کا استعمال کیا تھا، لہٰذا ایران نے سب سے پہلے انہیں ہی نشانہ بنایا۔جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ان میں موجود عمارتوں اور اثاثوں کی تباہی ہوئی۔ چونکہ امریکہ نے ان نقصانات کو بڑی حد تک چھپایا تھا، تاہم اب سٹیلائٹ تصاویر نے اس تباہی سے پردہ اٹھا دیاہے، جس سے اصل حقیقت آشکار ہوئی کہ امریکہ نے جتنا نقصان ظاہر کیا تھا، ایرانی حملوں میں اس سے کئی گنا زیادہ نقصان ہوا ہے۔