ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تیل اور گیس تلاش سیکٹرمیں مرحلہ وار ایک ارب ڈالرزکی سرمایہ کاری آئے گی ۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم

تیل اور گیس تلاش سیکٹرمیں مرحلہ وار ایک ارب ڈالرزکی سرمایہ کاری آئے گی ۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: وزیر پیٹرولیم نے کہا پاکستان میں پٹرول وڈیزل کی اسمگلنگ کا  سالانہ300ارب روپے کا تخمینہ ہے ۔ ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ملک میں آئے گی ۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک  نےمیڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا تیل اور گیس تلاش سیکٹرمیں مرحلہ وار ایک ارب ڈالرزکی سرمایہ کاری آئے گی۔پاکستان میں پٹرول وڈیزل کی اسمگلنگ کا  سالانہ300ارب روپے کا تخمینہ ہے۔اگلے ہفتے سعودی عرب ریاض میں فیوچر منرل فورم مین شرکت کروں گا،ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پٹرولیم کنسیشنز کی ری سٹرکچرنگ کر رہے ہیں۔پاور سیکٹر کو ایندھن پٹرولیم ڈویژنز کے ادارے فراہم کرتے ہیں۔

پاور اور پٹرولیم دویژن کے درمیان اس معاملے پر توازن قائم کرنا ہے۔پٹرول کی ٹرانسپورٹیشن کو زیادہ سے پائپ لائن کے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر سے سوال  کیا گیا کہ کیا آپ گیس گردشی قرض خاتمے کےلیےپٹرول اور ڈیزل پر لیوی لگا رہے ہیں ؟

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گیس گردشی قرض کا فلو زیرو کر دیا ہے۔نائب وزیر اعظم کی سربراہی میں گیس گردشی قرض کے خاتمے کے لیےکمیٹی بن چکی ہے۔جو بھی فصیلہ ہوگا کمیٹی کرے گی۔گردشی قرض بنیادی طور پر3 حکومتی گیس پیداواری کمپنیوں کو ادا ہونا ہے۔
 لیٹ پیمنٹ سرچارجز  کے سوا، گیس گردشی قرض 1500 ارب روپے کے قریب ہے۔مہنگی گیس خریدکرسستی بیچنے پرقومی خزانے کو1100ارب روپے نقصان کاانکشاف  بھی ہوا۔

یہ انکشاف وزیر پیٹرولیم نے میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو میں کیا۔پاورسیکٹرکی جانب سے گیس نہ اٹھانےکیوجہ یہ نقصان 4 سال میں ہوا۔مہنگی گیس منگواکر سستی بیچنے پر یہ نقصان ہوا،رواں مالی سال کے لیے اس مد میں نقصان کا تخمینہ 242 ارب روپے کا ہے۔ پاور سیکٹر نےماہانہ وعدے کے مطابق پوری ایل این جی نہیں خریدی ۔