ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس 2025 کے خلاف مزید آئینی درخواستیں دائر کر دی گئیں۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب کی جانب سے مبینہ قبضہ ختم کروانے کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کیس کو مزید کارروائی کے لیے لارجر بینچ کے روبرو بھجوا دیا۔
درخواست ننکانہ صاحب کے شہری شہباز کی جانب سے دائر کی گئی، جس پر جسٹس عبہر گل نے سماعت کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متنازعہ جائیداد کا معاملہ پہلے ہی سول کورٹ میں زیر سماعت ہے اور سول عدالت کی جانب سے حکمِ امتناعی بھی جاری کیا جا چکا ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ سول کورٹ میں کیس زیر التوا ہونے کے باوجود ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے قبضہ ختم کرانے کا حکم جاری کیا، جو کہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عدالتی کارروائی میں مداخلت کے مترادف ہے۔درخواست گزار نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ آئینِ پاکستان ڈپٹی کمشنر یا کمشنر کو عدالتی نوعیت کے اختیارات استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا، جبکہ پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس 2025 کے تحت انتظامی افسران کو ایسے اختیارات دینا آئینی اصولوں کے منافی ہے۔درخواست گزار کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب کے جاری کردہ قبضہ ختم کروانے کے احکامات کو کالعدم قرار دیا جائے اور شہریوں کے بنیادی و آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد معاملے کی نوعیت کو اہم قرار دیتے ہوئے کیس کو مزید سماعت کے لیے لارجر بینچ کے سپرد کرنے کا حکم دے دیا۔