سٹی42:سانحہ 9 مئی کیسز کے ٹرانسفر کا معاملہ ، سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر پنجاب کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کی آبزرویشنز کا اثر زائل کردیا، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا 22 لاکھ جرمانے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
سپریم کورٹ نے اہم ریمارکس جاری کرتے ہوئے کہا لاہور ہائیکورٹ جوڈیشل آفیسر اور پراسیکیوٹر سے متعلق فائنڈنگ ذاتی نوعیت کی ہے،ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے صوبہ بھر کی عدلیہ کے انتظامی امور کو دیکھنا ہوتا ہے،مناسب نہیں کہ ہائیکورٹ کی فائنڈنگ میں مزید مداخلت کریں۔
چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا ہائیکورٹ کے اختیار میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے،جرمانے ادا کر دیں یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔
پنجاب حکومت نے سابق اے ٹی سی جج راولپنڈی اعجاز آصف کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا ، لاہور ہائیکورٹ نے ریفرنس اور مقدمہ منتقلی کی درخواست خارج کر دی تھی ، پنجاب حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
قبل ازیں وقفے کے بعد کیس کی سماعت شروع ہوئی، وکیل پنجاب حکومت نے عدالتی آپشنز پر نئی ہدایات کیلئے مہلت مانگ لی، عدالت نے وکیل پنجاب حکومت کو کل تک کا وقت دے دیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ فرض کرلیں ضمانت کا فیصلہ واپس لے لیں پھر کیا ہوگا؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا 9 مئی صرف احتجاج نہیں تھا، 9 مئی کو ایک ادارے پر حملہ کیا گیا۔
چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا ٹرائل کورٹ کو تین ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا کہہ دیتے ہیں،ضمانت منسوخ کریں تو ٹرائل رک جائے گا،وکیل پنجاب حکومت نے کہا ٹرائل پراسیکیوشن مکمل کروا لے گی،
چیف جسٹس نے پنجاب حکومت کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہم سے کسی قسم کی فائڈنگ نہ لیں،وکیل نے کہا تین ماہ میں ٹرائل مکمل نہیں ہوگا،عدالتوں میں چالان داخل نہیں ہو سکیں گے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم کہہ دیتے ہیں جن کی ضمانت ہو چکی ہے وہ سات دن میں شامل تفتیش ہوں،سات دن میں ملزمان شامل تفتیش ہوں عدالت چارماہ میں فیصلہ کرے۔
وکیل پنجاب حکومت نے کہا مجھے اس آپشن پر ہدایات کیلئے کل تک کی مہلت دے دیں،کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔