ویب ڈیسک : بھارت کے کم سِن لڑکے نے غیر معمولی سیاسی پختگی دکھاتے ہوئے پاکستان مخالف بیان دینے پر مجبور کرنے والے صحافی کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور اسے کھرے کھرے جواب دے کر لاجواب کردیا۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک بھارتی صحافی ایک نوجوان پاکستان مخالف بیان دینے پر مجبور کرتا نظر آ رہا ہے اور آس پاس دیگر لوگ بھی کھڑے ہیں۔
اس صحافی نے پاکستان کا دفاع کرنے والے ٹین ایجر کے جوابات سے زث ہو کر ان سے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے اور آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟
نوجوان نے جواب دیتے ہوئے کہا ’میرا نام کیف ہے اور میں بہار سے ہوں'، صحافی نے اس ٹین ایجر پر شخصی حملہ بھی کیا اور اسے کہا کہ ’آپ کو تھوڑی سی بھی شرم نہیں آ رہی کہ بھارت میں رہتے ہوئے آپ پاکستان کا دفاع کر رہے ہو؟‘
ٹین ایجر نے دلیری سے جواب میں کہا ’ نہیں، مجھے شرم نہیں آرہی اور آپ جو یہ خبر بنا رہے ہو تو آپ کو شرم نہیں آرہی کہ کیا خبر بنا رہے ہو؟ ہندو اور مسلمانوں کے بارے میں جھوٹی خبریں بنا کر پھیلا رہے ہو اور مجھے یہ بتاؤ کے اس معاملے میں بھارت کا دفاع کیوں کرنا ہے؟'
اس بظاہر کم عمر بہاری لڑکے نے امیزنگ سیاسی پختگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'پاکستان میں بھی ہندو اور مسلمان دونوں رہتے ہیں تو پھر کیوں ختم کرنا ہے؟‘
نوجوان نے مزید کہا ’سب انسان ہیں، سب کو زندگی جینے کا پورا حق ہے اور میں اس معاملے میں پاکستان کا دفاع کرتا ہوں‘۔