سٹی42: دس روز پہلے پاکستان کے سکیورٹی حکام نے داعش افغانستان کے لیڈر شریف اللہ عرف جعفر کو گرفتار کر کے امریکی سکیورٹی حکام کے حوالے کر دیا تھا، آج اسے امریکہ کی ایک عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ لیکن افغانستان کے طالبان حکومت کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ جس شریف اللہ نے 2021 میں کابل ائیرپورٹ پر خود کش حملہ کروایا تھا وہ تو طالبان کی جیل میں قید ہے۔
طالبان کے ایک اہم عہدیدار کا یہ بیان امریکہ کی نیوز آؤٹ لیٹ سی بی ایس نیوز کے رپورٹر کے رابطہ کرنے پر سی بی ایس نیوز کے ذریعہ سامنے آیا ہے۔
سی بی ایس نیوز نے بتایا، ملزم شریف اللہ کی گرفتاری پرطالبان کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ ’اس وقت ہمارے پاس شریف اللہ نام کے دو تاجک شہری زیر حراست ہیں۔ انھیں طویل مدتی قید کی سزا سنائی گئی ہے اور وہ 2021 کے ایبے گیٹ بم دھماکے اور دیگر حملوں میں ملوث تھے۔ ہم شریف اللہ نامی کسی افغان شہری کے بارے میں نہیں جانتے۔ کابل میں اس نام کے دو شہری ہماری حراست میں ہیں اور دونوں تاجک باشندے ہیں۔‘
پینٹاگون کے مطابق سنہ 2021 میں 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ حملے میں ایک خودکش حملہ آور نے ہوائی اڈے کے داخلی دروازے پر دھماکہ خیز مواد سے دھماکا کیا تھا جہاں روزانہ ہزاروں لوگ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد شہر سے فرار ہونے کی کوشش میں وہ جمع ہو رہے تھے۔
اس حملے میں امریکی فوجیوں کے ساتھ ایک سو ستر افغان شہری بھی مارے گئے تھے۔ صدر جو بائیڈن نے اس حملے کا بدلہ لینے کا عزم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم اس کو نہیں بھولیں گے، ہم معاف نہیں کریں گے اور ہم اس کے ملزمان کو تلاش کریں گے اور انھیں اس کی قیمت چکانا ہو گی۔‘