ایم بی بی ایس کے طلبا کا مستقبل خطرے میں پڑگیا

ایم بی بی ایس کے طلبا کا مستقبل خطرے میں پڑگیا

( زاہد چوہدری ) بدترین گورننس کا شاخسانہ، ایم بی بی ایس فائنل ایئر کے 500 سے زائد طلبہ کا مستقبل داو پر لگ گیا، سپلیمنٹری امتحانات ملتوی ہونے کے باعث طلبہ کا ایک سال ضائع اور امتحان پاس کرکے رواں برس ہاؤس جاب نہیں کر سکیں گے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیر انتظام یکم جون سے شروع ہونے والے ایم بی بی ایس کے سپلیمنٹری امتحانات کو اچانک غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اس فیصلے کی پاداش میں ایم بی بی ایس فائنل ایئر کے 500 سے زائد طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ سپلیمنٹری امتحانات میں ایم بی بی ایس فائنل ایئر کے 291 طلبہ نے میڈیسن، 382 نے سرجری، 142 نے گائنی اور 373 نے پیڈز میں سپلیمنٹری امتحان دینا تھا۔

سپلیمنٹری امتحانات منسوخ ہونے کی وجہ سے ایم بی بی ایس فائنل ایئر کے طلبہ پاس ہوکر جولائی سے ہاؤس جاب شروع نہیں کر سکیں گے جس سے ان کا ایک برس ضائع ہوجائے گا۔

دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر سلمان حسیب کا کہنا ہے کہ ایم بی بی ایس فائنل سپلیمنٹری امتحانات کینسل کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایم بی بی ایس کے طلبا کو پروموٹ کیا جائے تاکہ ہسپتالوں میں ہاؤس آفیسرز کی کمی کو پورا کیا جائے۔

یا درہے یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز نے امتحانات کا سلسلہ شروع کیا تھا جس کو ایک بار پھر ملتوی کردیا گیا۔چند روز قبل یوایچ ایس نے ایس او پیزکومد نظر رکھتے ہوئےایم بی بی ایس فائنل میڈیسن سپلیمنٹری  امتحانات منعقد کیے،پنجاب اورآزاد کشمیر کے37 میڈیکل کالجوں کے291 میں سے275 امیدواروں نےامتحانات میں شرکت کی۔