طلحہ اشرف: ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں سرکاری نرخوں پر عملدرآمد نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ قیمت 241 روپے فی کلو کے باوجود مختلف علاقوں میں ایل پی جی 450 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ موجود ہونے کے باوجود انہیں مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جبکہ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے باعث گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب دکانداروں کا مؤقف ہے کہ انہیں ہول سیل مارکیٹ سے ہی ایل پی جی مہنگے داموں مل رہی ہے، اس لیے اوگرا کے مقررہ نرخ پر فروخت کرنا ممکن نہیں۔
یا درہے کہ حکومت کی جانب سے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 241 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود اوپن مارکیٹ میں ایل پی جی 410 سے 460 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، جبکہ سرکاری نرخ پر گیس کی دستیابی تقریباً ناپید ہے۔
مزید برآں، ان کے مطابق جب تک سپلائی چین میں قیمتوں کو کنٹرول نہیں کیا جاتا، ریٹیل سطح پر سرکاری نرخ نافذ کرنا مشکل رہے گا۔
گزشتہ روز بھی دکانداروں کنے بتایا کہ اگر وہ سرکاری قیمت پر فروخت کریں تو انہیں بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دکانداروں نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت سپلائی چین میں موجود مڈل مین کے کردار کا جائزہ لے اور قیمتوں میں مصنوعی اضافے کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، تاکہ صارفین کو سرکاری نرخ پر ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔