ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان میں موسمیاتی عدالت کے قیام کی ضرورت ہے، جسٹس منصور علی شاہ

پاکستان میں موسمیاتی عدالت کے قیام کی ضرورت ہے، جسٹس منصور علی شاہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک :  سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو کلائمٹ چینج اتھارٹی اور کلائمٹ چینج فنڈ قائم کرنا ہوگا، موسمیاتی عدالت کے قیام کی بھی ضرورت ہے۔ 

 جسٹس منصور علی شاہ نے اسلام آباد میں موسمیاتی تبدیلی پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ دنیا کو موسمیاتی چینلجز کا سامنا ہے، ہمیں موسمیاتی احتساب کا نظام لانا ہو گا۔

 جسٹس منصور علی شاہ نے ملک میں موسمیاتی عدالت کے قیام کی تجویز دے دی۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی عدالت کے قیام کی بھی ضرورت ہے، پاکستان کو کلائمٹ چینج اتھارٹی اور کلائمٹ چینج فنڈ قائم کرنا ہوگا۔

  ورلڈ بینک والیری ہکی (Valerie Hickey) نےکانفرنس سے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی غریب لوگوں کے لیے خطرہ ہے، موسمیاتی تبدیلی لوگوں کو غربت سے باہر نکالنے کا عمل روک دے گی، پاکستان کی وجہ سے لاس اینجلس میں آگ نہیں لگی، ورلڈ بینک فوڈ سکیورٹی کے لیے پاکستان کو فنانس دے گا۔ 

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ہم نے مائیکرو اکنامک محاذ پر اہم پیشرفت کی ہے، معاشی استحکام کے لیے 2 اہم مسائل ہیں، ایک آبادی کا تیزی سے بڑھنا اور دوسرا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا،گرین کلائمٹ فنڈز کے لیے غور کررہے ہیں، ہمیں فنانسگ کے ساتھ استعداد کار بھی بڑھانی ہو گی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال کاکہنا تھا کہ گرین پاکستان کی طرف جانا ہوگا، اس میں تاخیر نہیں کرسکتے، اُڑان پاکستان پروگرام میں موسمیاتی تبدیلی بھی شامل ہے، ہمیں دوسروں کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، پاکستان کو لیڈ لےکر مثال قائم کرنا ہو گی۔

کانفرنس سے خطاب میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین نے کہا کہ ہم عمارتوں کو سولر پر لے جا رہے ہیں تاکہ کے پی کو گرین صوبہ بنائیں، صوبے کے لیے مزید گرین پراجیکٹ لارے ہیں۔