ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لیز پر زمین دینے سے متعلق نئے قواعد و ضوابط تشکیل ، سرکاری ملازمین پر پابندی

 لیز پر زمین دینے سے متعلق نئے قواعد و ضوابط تشکیل ، سرکاری ملازمین پر پابندی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

راودلشاد: پنجاب حکومت نےاسٹیٹ لینڈ کی لیز کے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی، کلونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈز ایکٹ 1912 کے تحت قواعد و ضوابط تشکیل ، اسٹیٹ لینڈ کا مقصد زمین کا مؤثر استعمال ،زرعی، لائیوسٹاک کی ترقی قرار، فاریسٹ، نرسریز، گرین ہاؤسز، آرگینک فارمنگ اور ایگرو انڈسٹریز کی ترقی قرار دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق خوراک کے تحفظ اور دیہی ترقی کیلئے زمین کی لیز کی جاسکےگی، پنجاب حکومت نے پیداوار بڑھانے کے اہداف واضح کردئیے، پنجاب کی زمین اب صرف اہل اور باصلاحیت افراد و تنظیموں کو لیز پر دی جائے گی۔

پنجاب کے رہائشی شناختی کارڈ یا ڈومیسائل ہولڈر نیلامی میں حصہ لے سکتے ہیں، سرکاری ملازمین اور سرکاری اداروں کو نیلامی میں حصہ لینے سے روک دیا گیا، ایک خاندان صرف ایک لیز لاٹ لے سکے گا۔

رولز کےمطابق شوہر، بیوی اور غیر شادی شدہ بچے ایک فیملی تصور ہوں گے، نیلامی کمیٹی کی سربراہی متعلقہ ڈپٹی کمشنر کرے گا، محکموں کے ضلعی سربراہان کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

کمشنر ڈویژن نیلامی کے تمام مراحل کی منظوری دے گا، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی سربراہی میں اسٹیئرنگ کمیٹی پالیسی اور اسٹریٹجک جائزہ لے گی، ضلعی سطح پر ڈی سی کی زیرِ قیادت کمیٹی سالانہ معائنہ اور خلاف ورزیوں کا تعین کرے گی۔

تحصیل کمیٹی ہر6 ماہ بعد معائنہ کرے گی جس سےلیز شرائط پر عملدرآمد کی نگرانی ہوسکے گی، لیز ہولڈر زمین نہ بیچ سکتا ہے، نہ منتقل، نہ سب لیز ، قواعد کی خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی، وفات کی صورت میں لیز قانونی ورثاء کو منتقل ہوسکتی ہے لیکن کلیکٹر کی منظوری لازمی ہوگی، حکومت کی ضرورت پر لیز کی زمین واپس لی جا سکتی ہے۔

صرف کھڑی فصل کی مارکیٹ ویلیو دی جائے گی، لیزدار مقامی درخت لگانے اور محکمہ زراعت و جنگلات کی ہدایات کے مطابق کاشت کا پابند ہوگا، لیز ہولڈر کو ملکیت کے حقوق نہیں ملیں گے
یہ زمین کلونائزیشن ایکٹ 1912 کے تحت ہی رہے گی، ٹی سی ایل اسکیم کی زمین ان قواعد میں شامل نہیں۔ 

بورڈ آف ریونیو کو ہر نیلامی روکنے یا کالعدم قرار دینے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا، لیز سے متعلق تنازعات میں ممبر کالونیز ثالث ہوں گے جنکافیصلہ حتمی تصور ہوگا، ضلع کلکٹر ہر سال معائنہ رپورٹ بورڈ آف ریونیو کو بھجوانے کا پابند ہوگا۔