ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

قتل کیس،ہائیکورٹ کاسزائےموت کےمجرم کوبری کرنےکااہم فیصلہ

قتل کیس،ہائیکورٹ کاسزائےموت کےمجرم کوبری کرنےکااہم فیصلہ
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے شادی سے انکار پر لڑکی کو قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت پانیوالے مجرم محمد حسین کی اپیل منظور کرتے ہوئے اس کی سزائے موت کالعدم قرار دے کر بری کر دیا۔ دو رکنی بینچ کے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے کو عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔

جسٹس شہرام سروراورجسٹس سردارعلی اکبر ڈوگر پرمشتمل دو رکنی بنچ نے مجرم محمدحسین کی اپیل منظور کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کیا، ملزم محمد حسین کیخلاف2021 میں تھانہ سرگودھا میں قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے 2022 میں سزائے موت اورجرمانے کی سزا سنائی تھی۔استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا تھاکہ ملزم مقتولہ سے شادی کرنا چاہتا تھا،انکار پرملزم نے ہسپتال کے گیٹ پر اسے قتل کردیا۔ ہائیکورٹ نے مجرم کو بری کرتے ہوئے قراردیا کہ پوسٹمارٹم میں 7 گھنٹے تاخیر کی وجہ نہیں بتائی گئی، جو کیس کو مشکوک بناتا ہے۔ عدالت نے مقتولہ کی والدہ کا بیان مشکوک قراردیتے ہوئے فیصلہ میں لکھاکہ والدہ نے بیان دیا کہ وہ، ان کا شوہراورمقتولہ رکشے پردوائی لینے جا رہے تھے۔عدالت نے لکھا کہ معمولی طبی معائنے کیلئےچارافراد کا اکٹھے جانا ناقابلِ فہم ہے۔ پسٹل کی برآمدگی میں تضاد ہے،گواہ کے مطابق ملزم کوموقع پرگارڈ نے پکڑا۔ جبکہ پولیس کے مطابق ملزم نے پسٹل کہیں دورچھپا دیا تھا، جوبعد میں برآمد ہوا۔ عدالت نے لکھا کہ اگر ملزم موقع سے ہی گرفتارہوا تھا تو پسٹل چھپانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ تضاد بھی کیس کو کمزور کرنے کا باعث بنا۔

Ansa Awais

Content Writer