ارباز خان: اوپن مارکیٹ میں سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں نمایاں فرق برقرار ہے، جس سے شہری مہنگے داموں اشیائے خور و نوش خریدنے پر مجبور ہیں۔
خریداروں کا کہنا ہے کہ سرکاری ریٹ لسٹ صرف کاغذی کارروائی بن کر رہ گئی ہے جبکہ مارکیٹ میں من مانے نرخ وصول کیے جا رہے ہیں۔
مارکیٹ میں پیاز سرکاری قیمت 140 روپے کے بجائے 200 روپے، ٹماٹر 250 کے بجائے 400 روپے، دیسی لہسن 160 کے بجائے 310 روپے اور ادرک 350 کے بجائے 450 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ اسی طرح آلو 32 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 80 روپے، شملہ مرچ 300 کے بجائے 350 روپے جبکہ بھنڈی 170 روپے کے بجائے 200 روپے فی کلو میں فروخت کی جا رہی ہے۔
پھلوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں فرق دیکھنے میں آیا۔ چیکو 200 روپے کے بجائے 280 روپے، کیلا 215 روپے فی درجن کے بجائے 250 روپے، چونسہ آم 280 روپے کے بجائے 450 روپے جبکہ ناشپاتی 260 روپے کے مقابلے میں 400 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کرے تاکہ عوام کو مقررہ قیمتوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔