سٹی42: ضلعی انتظامیہ نے باجے بیچنے پر پابندی لگا دی۔ انتظامیہ نے اعکان کیا ہے کہ جن دوکانوں اور عارضی سٹالوں پر باجے فروخت کیلئے رکھے پائے گئے ان دوکانداروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی اور باجے ضبط کر لئے جائیں گے۔
جشنِ آزادی کی تیاریوں کا آغاز ہوتے ہی وفاقی دارالحکومت میں باجوں کی فروخت عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے دوکانوں اور عارضی سٹالز پر فروخت کیلئے رکھے گئے باجے قبضے میں لینے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔
آج بدھ کے روز وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے باجوں کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا گیا۔
ڈی سی اسلام آباد نے تمام اسسٹنٹ کمشنروں اور مجسٹریٹس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ جہاں کوئی باجا نظر آئے اسے قبضے میں لے لیا جائے۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے ماتحت افسروں کو ہدایت کی کہ تمام افسر فی الفور بازاروں میں نکلیں اور باجے بیچنے والوں کے خلاف کاروائی کریں۔
ڈی سی نے دھمکی دی کہ جس ایریا کے سٹالز سے باجے برآمد ہوئے اس ایریا کا متعلقہ افسر ذمہ دار ہوگا۔
باجے ضبط کرنے کے لئے کارروائیاں یوم آزادی تک روزانہ کی جائیں گی۔
پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائیاں کی جائیں گی۔
باجے پر پابندی کا پس منظر
گزشتہ چند سال کے دوران باجا اور جشنِ آزادی لازم و ملزوم ہو گئے ہیں۔ آزادی کے جشن کے موقع پر اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لئے چھوٹے بڑے حتیٰ کہ بوڑھے بھی بڑے بڑے باجے بجا کر شور مچانا اپنا حق اور فرض سمجھنے لگے ہیں۔
خوشی کے اظہار کے لئے باجا بجانے والے خود تو یقیناً اس شغل سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن بہت سے باجے بیک وقت بجائے جانے سے جو شور مچتا ہے وہ بہت سے شہریوں کو پسند نہیں آتا۔ بعض شہری اس شور سے گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں، بعض اسے آدابِ معاشرت کے خلاف تصور کرتے ہیں۔ ایسے شہریوں کے بار بار مطالبہ پر اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے باجا بیچنے پر پابندی لگا کر پہل کی ہے، پنجاب کے تمام شہروں مین بدھ کی رات تک باجا بیچنے اور باجا بجانے کی مکمل آزادی ہے۔