ویب ڈیسک:بھارت کی سیاست میں ایک بار پھر متنازع بیانات نے ہلچل مچا دی ہے، جہاں سخت گیر مؤقف رکھنے والے رہنما کے الفاظ پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ہندو انتہا پسند وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک حالیہ خطاب میں مسلمانوں سے متعلق سخت اور تنقیدی ریمارکس دیے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
انہوں نے آسام میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست کو مبینہ “دراندازوں” سے پاک کر سکتی ہے، اور اس حوالے سے نشاندہی کرکے کارروائی کی جائے گی۔
اپنی تقریر کے دوران انہوں نے اتر پردیش کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سڑکوں پر نماز کی اجازت نہیں دی جاتی اور عبادت گاہوں میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ویسٹ بنگال، آسام اور دیگر ریاستوں میں انتخابات کے قریب آتے ہی اس نوعیت کے بیانات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو انتخابی ماحول کو مزید کشیدہ بنا سکتے ہیں۔