مفتی عبدالقوی کا خواجہ سراؤں کو شادی کا مشورہ دینا مہنگا پڑگیا

سٹی 42: مشہور زمانہ مفتی عبد القوی کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر، حافظ مشتاق احمد نعیمی ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی، مفتی عبد القوی نے ٹی وی پروگرام میں کہا کہ خواجہ سرا شادی کرسکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن مسعود وڑائچ نے حافظ مشتاق احمد نعیمی ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مفتی عبد القوی کا بیان غیر فطری اور خلاف مذہب ہے، مفتی عبد القوی کا بیان بے گناہ اور راہ روی کا راستہ کھولنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی عیاشی کیلئے نہیں ہوتی، اولاد پیدا کرنے کرنے کیلئے کی جاتی ہے۔ 

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ خواجہ سرا میں اولاد پیدا کرنے اور مخلوق خدا میں اضافہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ مفتی عبد القوی کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے 14 اپریل کو پولیس سے جواب طلب کر لیا۔

روہی سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی بھی بات خود سے نہیں کہ ہے، ہمارے علما نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے جس کا میں نے ٹی وی پروگرام میں بھی حوالہ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اگر خواجہ سرا کہے کہ میرے اندر مرد ہونے جبکہ ایسا خواجہ سرا جو اس بعد کا دعوی کرے کہ میرے میں خاتون ہونے کی صفات ہیں اس کو شادی کرنی چاہئے۔

ان کا مزید کہنا تھا میں نے کو کچھ کہا ہے وہ قرآن میں ہے، اگر میں نے غلط کہا ہو تو معذرت کیلئے تیار ہوں۔ یہ سب روایات ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا میں پاکستان، قانون اور عدلیہ کا دل سے احترام کرتا ہوں۔