سٹی42: وزیر داخلہ محسن نقوی بھی علیمہ خان کو انڈے مارے جانے کے بعد شروع ہونے والی بحث میں کود پڑے۔
راولپنڈی میں پاکستان تحریک انصاف کی کارکن خواتین نے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو میڈیا کے کیمروں کے سامنےانڈے مارے تھے۔ پولیس نے ان دونوں خواتین کو گرفتار کر لیا تھا، تفتیش پر پتہ چلا کہ دونوں لڑکیاں خیبر پختونخوا حکومت کے رویہ سے تنگ آ کر اڈیالہ جیل کے قریب احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین میں شامل تھیں۔ انہوں نے علیمہ خان سے سوالات کئے جن کا علیمہ نے کوئی جواب نہین دیا، اس کے بعد انہوں نے علیمہ خان کو انڈے مار دیئے۔ انڈے پڑنے کے اس واقعہ کی نیوز کیمروں سے ویڈیو بن گئی اور نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
سوشل میڈیا پر علیمہ خان کو انڈے پڑنے کا چرچا
سوشل میڈیا پر علیمہ خان کو اڈیالہ جیل کے قریب انڈے پڑ جانے کے واقعہ پر بحث چھڑی ہوئی ہے، اس بحث میں پہلے پی ٹی آئی کے بانی کی بیوی بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض شامل ہوئی۔ انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ کی جس میں لکھا, "اچھا ڈرامہ لگا ہے اور آ پ سب بے وقوف بنے جارہے ہیں۔" اس کومنٹ کے ساتھ مریم ریاض نے یہ بھی لکھا، "چیزوں کا تجزیہ کرنا سیکھیں، نقطوں کو جوڑیں اور نتیجہ نکال لیں۔"
اس پوسٹ کو لے کر بہت سے لوگوں نے تبصرے کئے، پھر وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس بحث میں کود پڑے۔ انہوں نے بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض کی اس پوسٹ کو کوٹ کرتے ہوئے اس پر اپنا تبصرہ لکھا، کہ بشریٰ بی بی کی بہن کہتی ہیں کہ علیمہ خانم نے خود کو خود ہی انڈا پڑوایا ہے۔
اب وزیر داخلہ محسن نقوی کی اس پوسٹ پر بھی بحث ہو رہی ہے۔

بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خانم پر اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان پر انڈا پھینکنے کا واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے انڈا پھینکنے کے الزام میں دو خواتین کو حراست میں لے لیا تھا۔