سٹی42: ملک کے مختلف علاقوں میں صبح سویرے پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری خوف و ہراس کا شکار ہو گئے اور گھروں سے باہر نکل آئے۔
زلزلے کے جھٹکے پشاور، ہنگو، سوات، مالاکنڈ اور چترال میں صبح 6:30 پر محسوس کئے گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.3 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 12 کلومیٹر زیر زمین تھی۔
زلزلے کا مرکز افغانستان کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع تھا تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم ریسکیو ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات بھی پنجاب کے کئی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تھے۔ زلزلے کے جھٹکے راولپنڈی، اسلام آباد، پختونخوا کے علاقوں میں بھی دور دور تک محسوس کئے گئے۔ زلزلے کی شدت ریختر سکیل پر 5.9 تھی۔ اس کا مرکز کوہ ہندوکش میں زمین کے اندر 111 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔اس زلزلہ سے ہونے والے کسی نقصان کی اب تک کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔
زلزلے کیوں آتے ہیں؟
زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے، پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں میں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے.
کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔
پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔