ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ میں منشیات کےمقدمےکی ناقص تفتیش پرآئی جی پنجاب طلب

لاہور ہائیکورٹ میں منشیات کےمقدمےکی ناقص تفتیش پرآئی جی پنجاب طلب
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے منشیات کے مقدمے میں ناقض تفتیش پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو کل  ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

 چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے  منشیات کے ملزم بھائی خان جھارا کی درخواست ضمانت پر آئی جی پنجاب کو طلب کرنے کا حکم دیا ،عدالت نے آئی جی پنجاب کو اس وقت طلب کیا جب تھانہ سرگودھا روڈ فیصل آباد کے سب انسپکٹر منشیات کے مقدمے سے متعلق عدالت کے روبرو پیش ہوئے مگر عدالت کو مطمئن نہ کر سکے۔
،مقدمے کا ریکارڈ کے مطابق تھانہ سرگودھا روڈ فیصل آباد نے چھ ملزمان کے خلاف منشیات کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ ان میں سے پانچ ملزمان ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں، جب کہ ایک ملزم بھائی خان جھارا تاحال جیل میں قید ہے۔ملزم بھائی خان جھارا کی جانب سے بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس کی سماعت کے دوران عدالت نے تفتیش کے معیار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس کی ناقص تفتیش کے باعث نہ صرف مقدمات میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ انصاف کے تقاضے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس  عالیہ نیلم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے مقدمات میں پولیس کی غیر سنجیدگی برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو ذاتی طور پر پیش ہو کر وضاحت دینے کا حکم دیا کہ پولیس کی تفتیش میں اتنی سنگین کوتاہیاں کیوں سامنے آئیں۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے آئی جی پنجاب  کو پیش ہونے کا حکم دے دیا.

Ansa Awais

Content Writer