ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے ایک مقدمے میں سزائے موت اور عمر قید پانے والے چار مجرمان کو بری کر دیا۔ عدالتِ عالیہ نے قرار دیا کہ مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد ناکافی اور متضاد ہیں، جن کی بنیاد پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔
جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مجرمان کی اپیل پر سماعت کی ۔ مقدمے میں مجرم اشفاق کو ماتحت عدالت نے سزائے موت جبکہ محمد آصف، اکرم اور ثاقب کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ماتحت عدالت نے حقائق کے برعکس فیصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ 2022 میں تھانہ سلانوالی،سرگودھا میں درج کیا گیا،ملزمان پر تصور حسین کے قتل اور دو دیگر افراد، انعم اور دانش، کو زخمی کرنے کا الزام تھا۔وکیلِ صفائی نے آگاہ کیا کہ مقدمے کے اندراج اور پوسٹمارٹم میں غیر معمولی تاخیر ہوئی، جو استغاثہ کے مؤقف پر شکوک پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق مقدمے میں استغاثہ کے گواہوں کے بیانات میں تضاد پایا گیا اور کسی بھی گواہ کا بیان قابلِ اعتماد نہیں تھا۔دوسری جانب مدعیِ مقدمہ اور سرکاری وکیل نے اپیل کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ مجرمان کیخلاف ثبوت واضح ہیں، تاہم وہ عدالت کو مطمئن نہ کر سکے۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App