اوگرا کا پٹرول ذخیرہ کرنے والے پمپوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

اوگرا کا پٹرول ذخیرہ کرنے والے پمپوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

(مانیٹرنگ ڈیسک) اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے پمپس کیخلاف کارروائی کیلئے انتظامیہ سے رابطہ کرلیا۔

  اوگرا ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائیڈرو کاربن ڈیویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور سپلائی بہت کم ہو چکی ہے،  پٹرولیم ڈویژن فوری طور پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر بڑھانے اور سپلائی کیلئے ہدایات جاری کرے، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے فوری طور پر اقدامات نہ لیے تو ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

  اوگرا کے مطابق پٹرولیم ڈویژن آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے 13 مئی کو جاری ہدایات پر عملدرآمد کی رپورٹ طلب کرے۔ 13 مئی کو پروڈکٹ ریویو کمیٹی کے اجلاس میں کمپنیوں کو پٹرولیم درآمد اور مقامی سپلائی بڑھانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

 ترجمان اوگر کے مطابق اوگرا نے تین بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے، لائسنس کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر نہ رکھنے پر شیل اٹک اور ٹوٹل کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، مذکورہ کمپنیوں سے 24 گھنٹوں میں جواب طلب کرلیا گیا ۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی جس کے بعد 90 روز میں پٹرول کی قیمت میں 43 اور ڈیزل کی قیمت میں 47 روپے کمی ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود اشیائے ضرویہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔

دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تو ہوئی مگر عوام کی پریشانی کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی، لاہور بھر میں پٹرول ناپید ہوگیا، شہری پٹرول کی تلاش میں خوار ہو گئے، انتظامیہ کی غفلت اور نجی کمپنیوں کی بد دیانتی کے باعث پٹرول کی سپلائی میں بہت زیادہ کمی آئی ہے اور شہریوں کو پٹرول نہیں مل رہا۔

 ذرائع کےمطابق پرائیویٹ آئل مارکیٹنگ کمپنیز نے پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کے چکر میں بروقت خریداری ہی نہ کی اور یکم جون سے قیمتیں کم ہونے کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی خریداری کے آرڈرز دیئےجس کے باعث طلب ورسد کا توازن بگڑا اور بحران پیدا ہوگیا۔